ایران پر اسرائیلی حملوں میں امریکا کی شمولیت کے بعد آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کا سخت ردعمل، صہیونی دشمن کو "سزا" دینے کا اعلان

ایران پر اسرائیلی حملوں میں امریکا کی شمولیت کے بعد آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کا سخت ردعمل، صہیونی دشمن کو

ویب ڈیسک: ایران کے خلاف اسرائیل کے فوجی حملوں اور ان میں امریکا کی شمولیت کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کا پہلا شدید ردعمل سامنے آ گیا ہے۔

 انہوں نے اسرائیل کو ایک سنگین غلطی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے اسے "سزا دینے" کے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔ایرانی سپریم لیڈر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ایکس" (سابق ٹوئٹر) پر اپنے فارسی زبان کے آفیشل اکاؤنٹس سے بیان جاری کیا۔ انہوں نے اسرائیلی کارروائی، جسے "آپریشن مڈ نائٹ ہیمر" کہا جا رہا ہے، کے تناظر میں کہا:"صہیونی دشمن نے ایک بڑا جرم کیا ہے، ایک سنگین غلطی کی ہے۔ اسے سزا ملنی چاہیے اور یہ سزا دی جائے گی۔"

"سزا جاری ہے!" – آیت اللّٰہ خامنہ ای
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب امریکا اور اسرائیل نے مبینہ طور پر ایران کی تین اہم ایٹمی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔ حملوں کے بعد امریکا کی جانب سے ایران کو جوابی کارروائی سے باز رہنے کی تنبیہ بھی جاری کی گئی تھی۔

علاقائی تناؤ میں شدید اضافہ
ایران نے حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیا ہے اور عندیہ دیا ہے کہ اس بار جواب بھرپور اور براہ راست ہوگا۔ آیت اللّٰہ خامنہ ای کی جانب سے "سزا" کا اعلان اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران مستقبل قریب میں جوابی کارروائی کی طرف جا سکتا ہے۔دوسری جانب، اسرائیل کی جانب سے اس آپریشن کا مقصد ایران کے ایٹمی اور دفاعی انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچانا بتایا جا رہا ہے، جبکہ ایران نے اپنی جوابی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ظاہر کیا ہے۔

بین الاقوامی تشویش
اسرائیلی حملوں میں امریکا کی شمولیت کے بعد صورتحال مزید گھمبیر ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ میں اس حوالے سے ہنگامی اجلاس بھی بلایا گیا، جہاں کئی ممالک نے جنگ بندی اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا۔پاکستان، ترکی، چین اور دیگر ممالک نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خطے میں قیامِ امن کے لیے بات چیت اور تحمل پر زور دیا ہے۔

 پس منظر
"آپریشن مڈ نائٹ ہیمر" اسرائیل کی جانب سے ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کے لیے کیا گیا ایک بڑا حملہ بتایا جا رہا ہے۔امریکا کی شمولیت سے یہ حملہ بین الاقوامی سطح پر زیادہ متنازع اور خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔ایران پہلے ہی اسرائیل پر میزائل حملے کر چکا ہے جس سے درجنوں افراد زخمی اور متعدد تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔
 نتیجہ:
آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کا یہ واضح بیان کہ "سزا جاری ہے" خطے میں ایک نئے، سنگین مرحلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ عالمی طاقتیں، خاص طور پر اقوام متحدہ، اس وقت کوشش کر رہی ہیں کہ معاملہ کسی بڑی جنگ میں نہ بدلے، لیکن ایران اور اسرائیل کے تازہ بیانات اور اقدامات صورتحال کو انتہائی نازک بنا چکے ہیں۔