داتا دربار سانحہ: وزیراعلیٰ مریم نواز کا سخت ایکشن، اعلیٰ افسران برطرف و گرفتار کرنے کے احکامات

داتا دربار سانحہ: وزیراعلیٰ مریم نواز کا سخت ایکشن، اعلیٰ افسران برطرف و گرفتار کرنے کے احکامات

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف داتا دربار کے قریب گراؤنڈ سیوریج لائن کے مین ہول میں نوجوان خاتون اور ان کی شیر خوار بچی کے گر کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے پر شدید صدمے اور غصے کی کیفیت میں ہیں۔

وزیراعلیٰ نے واقعے کو سنگین غفلت قرار دیتے ہوئے متعلقہ محکموں کے خلاف سخت ترین کارروائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے لاہور میں گزشتہ شب پیش آنے والے سانحے پر آج ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کی، جس میں تمام متعلقہ اداروں کی کوتاہیوں کی مکمل سکروٹنی کی گئی۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے ٹیپا کے پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور واسا کے ڈائریکٹر عثمان بابر کو فوری طور پر نوکری سے برخاست کرنے اور گرفتار کرنے کا حکم دیا۔وزیراعلیٰ نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ یہ دونوں افسران آئندہ کسی بھی سرکاری عہدے پر تعینات نہ ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحے کے ذمہ داروں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ڈی جی ایل ڈی اے کو بھی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے پر سزا کے اصل حقدار آپ لوگ ہیں، کیونکہ عوام کی جانوں کا تحفظ آپ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

وزیراعلیٰ نے واسا کے ذمہ دار افسر کے بارے میں چیف سیکرٹری سے استفسار کیا، جس پر ایم ڈی واسا نے ڈائریکٹر عثمان بابر کا نام بتایا۔ اس پر وزیراعلیٰ نے عثمان بابر کی فوری معطلی اور گرفتاری کے احکامات جاری کیے۔واضح رہے کہ عثمان بابر واسا لاہور میں ایک بااثر افسر سمجھے جاتے ہیں اور ڈی ایم ڈی انجینئرنگ واسا لاہور کا اضافی چارج بھی ان کے پاس ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کے لیے کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے مالی معاونت دلوانے کا بھی حکم دیا۔بھاٹی چوک کے قریب زیرِ تعمیر سائٹ پر غیر محفوظ مین ہول کے باعث پیش آنے والے اس دلخراش واقعے پر وزیراعلیٰ اجلاس کے دوران مسلسل انتظامی افسران پر برہم رہیں اور واضح کیا کہ عوامی جانوں سے کھیلنے والوں کو ہر صورت سزا دی جائے گی۔