وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس میں انہوں نے کہا کہ یہ جدید ہوائی اڈہ پاکستان اور چین کی عظیم دوستی کی ایک واضح علامت ہے۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ نیو گوادر ائیرپورٹ کے فعال ہونے سے علاقے میں خوشحالی آئے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے اس ائیرپورٹ کو ایک مصروف ٹرانزٹ پوائنٹ بنانے کے لیے قابل عمل حکمت عملی ترتیب دینے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے گوادر کے دیگر علاقوں سے ائیرپورٹ کے رابطہ سڑکوں کا نظام بہتر بنانے کی ہدایت بھی دی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ نیو گوادر ائیرپورٹ پاکستان کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ ہوگا، جو A-380 جہازوں کو ہینڈل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہاں سے سالانہ 4 لاکھ مسافر سفر کر سکیں گے۔ پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی نے ائیرپورٹ کو ایرو ڈروم سرٹیفکیٹ جاری کر دیا ہے، اور پاکستان کسٹمز نے بھی اس ائیرپورٹ کو نوٹیفائی کر دیا ہے۔وزیراعظم نے ائیرپورٹ کی فول پروف سیکیورٹی انتظامات کی ہدایت کی، اور بتایا کہ پاکستان کی قومی اور نجی ایئر لائنز نے گوادر سے پروازوں کے آغاز کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
گوادر سے مسقط کے لیے پروازیں 10 جنوری 2024 سے شروع ہوں گی، اور چین، عمان، اور متحدہ عرب امارات کی ایئر لائنز سے بات چیت جاری ہے تاکہ گوادر سے بین الاقوامی فلائٹ آپریشنز شروع ہو سکیں۔مزید برآں، ائیرپورٹ پر کولڈ سٹوریج، وئیر ہاؤسز، کارگو شیڈز، ہوٹیلز اور شاپنگ مالز کے لیے جگہ مختص کی گئی ہے، اور بینکوں کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ گوادر ائیرپورٹ کے لیے سڑکوں کے رابطے کو بہتر بنانے کے لیے ایسٹ بے ایکسپریس وے کا پہلا حصہ مکمل ہو چکا ہے۔اجلاس میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، اور دیگر اہم حکومتی عہدیداروں نے شرکت کی۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر نجکاری عبدالعلیم خان نے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔