خیبر پختونخوا کا قرض وفاقی حکومت کی بدانتظامی کے باعث بڑھا، مشیر اطلاعات

خیبر پختونخوا کا قرض وفاقی حکومت کی بدانتظامی کے باعث بڑھا، مشیر اطلاعات

پشاور: خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کا قرض وفاقی حکومت کی نااہلی کے باعث بڑھا ہے۔

 بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ عطا تارڑ نے خیبر پختونخوا کی معیشت پر بات کرتے ہوئے معیشت دانوں کی ہنسی کا سامان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے قرضے کے حوالے سے وائٹ پیپر کو کاپی کرکے صوبے پر الزام عائد کیا، حالانکہ صوبے کا قرض وفاق کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کا کل قرضہ 725 ارب روپے ہے، جبکہ وفاقی حکومت ہر ماہ اتنا قرض لیتی ہے۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ گزشتہ 2 سالوں میں پاکستان کا قرضہ 27 ہزار ارب روپے بڑھا ہے اور خیبر پختونخوا کا قرضہ بھی وفاق کی بدانتظامی کی وجہ سے بڑھا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے صوبے کا قرض 300 ارب روپے تک بڑھا۔

مشیر اطلاعات نے صحافیوں کے خلاف وفاقی حکومت کی کارروائیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اسلام آباد میں صحافیوں کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 9 مہینوں میں خیبر پختونخوا میں صحت کارڈ کے تحت 7 لاکھ 80 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج ہو چکا ہے اور یونیورسٹیوں کے چانسلر کی تعیناتی کے لیے وزیر اعلیٰ کو اختیار دیا گیا کیونکہ گورنر اس عمل میں رکاوٹ ڈال رہے تھے۔انہوں نے مریم نواز کے سوشل میڈیا کے حوالے سے دعووں کو مسترد کیا اور کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایسا کچھ نہیں ہے، بلکہ گزشتہ نگراں حکومت نے سوشل میڈیا پر سرمایہ کاری کی لیکن کوئی کامیابی حاصل نہیں کی۔