پشاور (ویب ڈیسک): خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ صوبے کو وفاق کی جانب سے مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ سیاسی مخالفت ہے۔
انہوں نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ:"وفاقی حکومت کی معاشی پوزیشن مستحکم نہیں رہی، شرح نمو 2.7 فیصد تک محدود ہو گئی ہے، اور ترقیاتی بجٹ میں خیبر پختونخوا کو محض 55 کروڑ روپے دیے گئے۔"
ترقیاتی بجٹ اور خودانحصاری پر زور
مزمل اسلم نے کہا کہ وفاق کی عدم دلچسپی کے باوجود خیبر پختونخوا نے اپنے ذرائع آمدن سے 93 فیصد تک ٹارگٹ حاصل کیا، اور ترقیاتی بجٹ کو خود بڑھایا ہے۔ ان کے مطابق:این ایف سی کی مد میں صوبے کو 90 ارب روپے کم ملے۔صوبے نے اپنے خزانے سے قبائلی اضلاع کو 20 ارب روپے دیے۔وفاق کی طرف سے وعدہ کردہ 70 ارب روپے قبائلی اضلاع کو نہیں دیے گئے۔
قرضوں اور مالی نظم و ضبط کی وضاحت
مزمل اسلم نے قرضوں کے حوالے سے کہا:"ہم نے کوئی نیا قرضہ نہیں لیا، صرف پہلے سے منظور شدہ منصوبوں کے لیے قرضہ جاری ہوا ہے۔ آئندہ بھی اگر قرضہ لیا گیا تو صرف بڑے منصوبوں کے لیے لیا جائے گا۔"ان کا کہنا تھا کہ 170 ارب روپے کا قرضہ ماضی کا ورثہ ہے، جس کی ادائیگی کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
وفاق کے رویے پر شدید تحفظات
مشیر خزانہ نے کہا کہ:"وفاق کا بجٹ ایک ہزار ارب روپے ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کا بجٹ صرف 547 ارب روپے ہے۔"انہوں نے بتایا کہ گیارہویں این ایف سی ایوارڈ کا اجلاس خیبر پختونخوا کے مطالبے پر اگست میں بلایا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے وفاق سے صوبے کے بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
تاریخی ترقیاتی بجٹ
مزمل اسلم نے اعلان کیا کہ:نئے مالی سال کے لیے 500 ارب روپے کی نئی ترقیاتی اسکیمیں شامل کی گئی ہیں۔کل ترقیاتی بجٹ 195 ارب روپے ہے۔بندوبستی اضلاع کے لیے 145 ارب روپے اور قبائلی اضلاع کے لیے 26.9 ارب روپے اب تک جاری کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ دیا گیا ہے، اور جب یہ حکومت آئی تو تھرو فارورڈ 10 سال کا تھا، جو اب گھٹ کر 5.1 سال تک آ چکا ہے۔