اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں گزشتہ ایک سال کے دوران امن و امان، دہشت گردی، منشیات، اسمگلنگ اور پولیس کی استعدادِ کار سے متعلق ایک وائٹ پیپر جاری کیا گیا ہے، جس میں صوبے میں بدامنی اور انتظامی معاملات سے متعلق مختلف اعدادوشمار اور سوالات سامنے رکھے گئے ہیں۔
وائٹ پیپر کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران خیبر پختونخوا میں 122 پولیس اہلکار شہید ہوئے، جبکہ 2025 کی اسی مدت میں یہ تعداد 63 تھی۔ یوں پولیس اہلکاروں کی شہادتوں میں 93.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی عرصے میں 175 اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ 2025 کی پہلی ششماہی میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کی تعداد 84 تھی، جو 108.3 فیصد اضافے کے برابر ہے۔وائٹ پیپر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران صوبے میں دہشت گرد حملوں کی تعداد 680 رہی، جبکہ 2025 کی اسی مدت میں 508 حملے رپورٹ ہوئے تھے، جس کے مطابق حملوں میں 33.9 فیصد اضافہ ہوا۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ بڑھتے ہوئے حملوں اور پولیس کے جانی نقصان نے صوبائی حکومت کی حفاظتی حکمت عملی اور ادارہ جاتی تیاری سے متعلق سوالات پیدا کیے ہیں۔ ستمبر 2026 میں کوہاٹ میں سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کے دفاتر پر ہونے والے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے وائٹ پیپر میں انسداد دہشت گردی کے اہم مراکز کی سیکیورٹی پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔
سی ٹی ڈی کے وسائل اور افرادی قوت
وائٹ پیپر کے مطابق سی ٹی ڈی کے آلات کے لیے 7 ارب 77 کروڑ روپے منظور کیے گئے، جن میں سے جون 2026 تک 7 ارب 5 کروڑ روپے جاری کیے جاچکے تھے، جبکہ 72 کروڑ روپے کا فرق باقی تھا۔ دستاویز میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ فنڈز کے اجرا کے بعد آلات کی فراہمی اور ان کے عملی استعمال کی تفصیلات کیا ہیں۔دسمبر 2025 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ سی ٹی ڈی کی 3,844 منظور شدہ آسامیوں کے مقابلے میں 3,113 اہلکار تعینات تھے، یوں تقریباً 19 فیصد آسامیاں خالی تھیں۔ جون 2026 تک سی ٹی ڈی کے 638 فیلڈ آپریٹرز کی خالی آسامیوں پر بھرتی بھی مکمل نہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔دستاویز کے مطابق خیبر پختونخوا سی ٹی ڈی کے پاس 17 بلٹ پروف گاڑیاں تھیں، جبکہ پنجاب میں 76 اور بلوچستان میں 42 گاڑیاں رپورٹ ہوئیں۔ اسی طرح دسمبر 2025 تک مطلوبہ 200 ایم فور رائفلوں کے مقابلے میں صرف 9 دستیاب ہونے اور 35 مطلوبہ نائٹ ویژن آلات کے مقابلے میں 11 دستیاب ہونے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور ایپکس کمیٹی
وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ نے عہدہ سنبھالنے کے 112 دن بعد صوبائی ایپکس کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔ دستاویز کے مطابق ایپکس کمیٹی کے فیصلوں کے بعد بھی بنوں، ٹانک، ہنگو اور کوہاٹ میں حملے ہوئے، جس کے باعث فیصلوں پر عمل درآمد اور ان کے نتائج کی تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
منشیات اور اسمگلنگ
دستاویز کے مطابق جنوری سے مارچ 2026 کے دوران خیبر پختونخوا میں پولیس کارروائیوں کے دوران 5,695 کلوگرام چرس برآمد کی گئی، جبکہ اسی مدت میں 847 کلوگرام آئس، 210 کلوگرام ہیروئن اور 275 کلوگرام افیون بھی پکڑی گئی۔وائٹ پیپر میں ستمبر 2026 کے دوران پشاور میں 960 کلوگرام منشیات کی ایک کھیپ پکڑے جانے اور دو مبینہ مصنوعی منشیات ساز مراکز پر چھاپوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ دستاویز میں مقامی سپلائرز اور مبینہ مالی سرپرستوں تک پہنچنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔اسی طرح جون 2026 کے بجٹ ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ منشیات کی فصل کے خاتمے کا سالانہ ہدف 250 کنال تھا، جس میں اپریل تک 130 کنال پر کارروائی کی گئی۔ وائٹ پیپر کے مطابق مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں مقررہ ہدف کا 52 فیصد حاصل کیا جاسکا۔جولائی 2026 کی کسٹمز رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وائٹ پیپر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دو ہفتوں کے دوران ایک ارب 16 کروڑ 30 لاکھ روپے مالیت کا اسمگل شدہ سامان اور گاڑیاں ضبط کی گئیں۔
پولیس پالیسی اور حکومتی اختیارات
وائٹ پیپر میں ستمبر 2026 میں صوبائی کابینہ کی جانب سے پولیس کمان پر حکومتی اختیارات بڑھانے سے متعلق نئے مسودے کی منظوری کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور اسے پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری کے تناظر میں سوالات سے جوڑا گیا ہے۔دستاویز میں مجموعی طور پر بڑھتے جانی نقصان، نامکمل بھرتیوں، مسلسل دہشت گرد حملوں اور پولیس وسائل سے متعلق اعدادوشمار کی بنیاد پر صوبائی حکومت سے سیکیورٹی اخراجات، حفاظتی اقدامات اور ان کے عملی نتائج کی تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اس معاملے پر مؤقف سامنے آنے کی صورت میں اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار میں صوبائی حکومت نے جون 2026 میں پولیس بجٹ کو صوبائی بجٹ کا 8.7 فیصد قرار دیتے ہوئے اضافی فنڈز اور نئی پولیس آسامیوں کی منظوری کا بھی ذکر کیا تھا۔