اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) فیٹف گرے لسٹ سے بچنے کیلئے نیشنل سائبر کرائم اینڈ انویسٹی گیشن ایجنسی کو ڈیجیٹل کرنسی میں فراڈ کی انویسٹی گیشن اور پراسیکیوشن کا اختیار سونپ دیا گیا۔ وزارتِ خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق ایجنسی کو سائبر ٹیررازم، الیکٹرانک فراڈ، غلط معلومات کی فراہمی پر سزا، چائلڈ پورنوگرافی، غیر تصدیق شدہ سم کارڈز فروخت کرنا اور شناخت بتانا، گمراہ کن اقدام، اغوا کرنا، بچوں کو غلط کام کی طرف راغب کرنا، آن لائن گرومنگ کے خلاف انویسٹی گیشن اور پراسیکیوشن کا اختیار ہوگا۔ وزارتِ خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت این سی سی اے ایجنسی کو انویسٹی گیشن اور پراسیکیوشن کا اختیار دیا گیا ہے،این سی سی اے کو انویسٹی گیشن اور پراسیکیوٹنگ ایجنسی بنا دیا گیا ہے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو پیکا ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی گزشتہ ہفتے کے دوران غیر ریگولیٹڈ ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کے باعث فیٹف گرے لسٹ کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کو شفاف طریقے سے ریگولیٹری رجیم میں لانا ہوگا۔ مجموعی آبادی کا تقریباً 15 فیصد حصہ ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کر رہا ہے۔ اکتوبر 2022 میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکال دیا تھا اور پاکستان نے کامیابی کے ساتھ تیزی سے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر عمل درآمد کیا تھا۔ فیٹف کے ایکشن پلانز کے تحت تمام 34 نکات پر عمل درآمد کیا گیا۔ فیٹف نے جون 2018 میں پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل کیا تھا۔ فیٹف گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد پاکستان کو جو فوائد حاصل ہوئے ان میں شامل ہے کہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری اور عالمی کمپنیوں کا اعتماد بحال ہوا، اب کاروباری افراد کو بینکنگ ٹرانزیکشنز میں کڑی جانچ پڑتال سے نہیں گزرنا پڑتا۔ گرے لسٹ میں رہتے ہوئے بینکنگ ٹرانزیکشنز پر سخت چیکنگ سے گزرنا پڑتا تھا جس سے لمبے عرصے تک ٹرانزیکشنز کلیئر نہیں ہوا کرتی تھیں۔ منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کا دھبہ ختم ہو چکا ہے۔ پاکستان کا بینکنگ سیکٹر خود کو مضبوط کرکے ٹرانزیکشنز چینل کو مئوثر بنا چکا ہے۔ اب ترسیلات زر اور سرمایہ کاری کیلئے پیسے کی جانچ پڑتال کم ہوتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان سے متعلق حوالہ ہنڈی کا تاثر زائل ہو چکا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق لائسنسنگ فریم ورک کا مسودہ بھی تیار کیا جا چکا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے بورڈ اجلاس میں ٹیکسیشن پالیسی اور ریگولیٹری ڈرافٹنگ کیلئے کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ این سی سی اے کے تعاون سے ورچوئل اثاثوں پر شکایتی پورٹل قائم کرنے کی منظوری بھی دی جا چکی ہے جہاں پر شکایات کا اندراج ہو سکے گا۔ ذرائع وزارتِ خزانہ کے مطابق ایجنسی کو اختیارات سونپنے سے مستقبل کے خدشات کو کلیئر کرنا ہے اور ایجنسی مکمل اختیارات کے تحت اتھرائزڈ ہوگی جس کی رپورٹ وزارتِ خزانہ سے شیئر کی جا سکے گی۔