ویب ڈیسک: اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے اپنی اور دیگر مشہور خواتین کی ایڈٹ شدہ اور قابلِ اعتراض تصاویر و ویڈیوز کے فحش ویب سائٹ پر شائع ہونے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے اس عمل کو خواتین کی تذلیل اور ناقابلِ قبول قرار دیا۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق وزیرِاعظم سمیت کئی سیاستدان خواتین اور مشہور شخصیات کی جعلی تصاویر و ویڈیوز ’فیکا‘ (Phica) نامی پلیٹ فارم پر شیئر کی گئی تھیں، جہاں انہیں مسخ شدہ انداز میں پیش کیا گیا اور جنسی و توہین آمیز جملے بھی درج کیے گئے۔ شدید عوامی ردعمل کے بعد ویب سائٹ بند کر دی گئی، تاہم منتظمین نے کہا کہ یہ مواد صارفین نے مختلف ذرائع سے اپ لوڈ کیا تھا۔اطلاعات کے مطابق ویب سائٹ پر جارجیا میلونی کی بہن آریانا میلونی اور کئی دیگر سیاستدان و شوبز شخصیات کی تصاویر بھی شامل تھیں۔ جارجیا میلونی نے کہا کہ وہ اس واقعے پر شدید برہم ہیں اور ان کی ہمدردیاں ان تمام خواتین کے ساتھ ہیں جو بدنام اور ذلیل کی گئی ہیں۔
وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ یہ معاملہ صرف ’ریوینج پورن‘ تک محدود نہیں بلکہ پرائیویسی اور ڈیٹا کے تحفظ کی ضرورت ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اٹلی میں 2019 سے ریوینج پورن کے خلاف قانون موجود ہے، جس کے تحت چھ سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں ایک اطالوی فیس بک گروپ بھی بند کیا گیا تھا، جہاں ہزاروں مرد خواتین کی نجی تصاویر بغیر اجازت شیئر کر رہے تھے۔ جارجیا میلونی کی اس تازہ بیان بازی نے ایک بار پھر اٹلی میں خواتین کے حقوق اور نسوانی تحریک کے موضوع پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔