لاہور میں شدید گرمی کے ساتھ ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ نے ایک بار پھر شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق لیسکو (Lahore Electric Supply Company) کے سسٹم پر بجلی کی طلب 2400 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ نیشنل پاور کنٹرول سینٹر (این پی سی سی) کی جانب سے فراہمی تقریباً 2280 میگاواٹ تک محدود ہے۔ اس صورتحال نے بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان واضح فرق پیدا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں لوڈشیڈنگ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔لیسکو حکام کے مطابق بجلی چوری اور زیادہ لائن لاسز والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے، جہاں روزانہ 2 سے 4 گھنٹے تک بجلی کی بندش کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سسٹم کو مستحکم رکھنے اور بجلی کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔
دوسری جانب شہریوں نے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں بجلی کی بندش نے زندگی اجیرن بنا دی ہے، جبکہ کاروباری سرگرمیاں اور گھریلو معمولات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔شہریوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ لوڈشیڈنگ کا واضح اور منصفانہ شیڈول جاری کیا جائے اور بجلی چوری کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عام صارفین کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔