شہر میں بادلوں کا راج برقرار ہے اور مطلع مکمل طور پر ابرآلود ہے۔
گزشتہ روز ہونے والی بارش سے گرمی کی شدت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے، تاہم ہوا میں نمی کے باعث حبس اور گھٹن کی کیفیت محسوس کی جا رہی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران 50 سے 70 فیصد بارش کا امکان ہے۔ شہر کا موجودہ درجہ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 ڈگری تک جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج اور کل سندھ، شمال مشرقی پنجاب، خیبر پختونخوا اور پہاڑی علاقوں میں بھی بارش متوقع ہے۔ کراچی میں گزشتہ روز مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش ہوئی، جس کے بعد موسم خوشگوار ہو گیا تاہم متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی شدید متاثر ہوئی۔سرجانی ٹاؤن، ملیر، نارتھ کراچی، آئی آئی چندریگر روڈ، گلشن حدید، گڈاپ، کلفٹن، ڈیفنس، اسکیم 33، نارتھ ناظم آباد، ماڈل کالونی، صفورا، کورنگی، لانڈھی اور سعدی ٹاؤن سمیت دیگر کئی علاقوں میں بارش کے بعد مختلف فیڈرز ٹرپ کرگئے۔ ایف بی ایریا، بفرزون، کلفٹن اور ڈیفنس میں بجلی کی فراہمی بار بار معطل ہوتی رہی۔
اطلاعات کے مطابق شہر میں مجموعی طور پر ساڑھے تین سو سے زائد فیڈرز ٹرپ کرچکے ہیں۔ادھر حیدرآباد میں تیز بارش کے باعث افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک مدرسے کی چھت گرنے سے دو بچے جاں بحق اور 14 زخمی ہوگئے۔ حیدرآباد میں آج بھی مزید بارش کا امکان ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں کے زیر آب آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ تیز بارشوں کے سبب برساتی نالوں میں طغیانی آ سکتی ہے اور نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہونے کا امکان ہے۔ آندھی اور تیز ہواؤں کے جھکڑ کمزور انفرااسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔محکمہ موسمیات نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔