حکومت کی جانب سے ممکنہ طور پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی نئی شرائط پوری کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں مزید اضافے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 100 روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ اضافہ لاگو ہونے کی صورت میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 393.35 روپے سے بڑھ کر 493.35 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 380.19 روپے سے بڑھ کر 480.19 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے، جس سے عوام پر مہنگائی کا مزید دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت جمعہ کے روز پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان کرے گی۔یاد رہے کہ اپریل 2026 میں حکومت نے پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے اسے 107 روپے فی لیٹر سے بھی اوپر پہنچا دیا تھا، جس کے بعد ملک میں مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہوا۔ بعض مراحل میں یہ اضافہ ایک ہی بار میں 50 روپے سے زائد رہا، جسے آئی ایم ایف کے مالیاتی اہداف پورے کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں پیٹرولیم لیوی کی مجموعی وصولیاں 1.2 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکی ہیں۔ اپریل کے آخر تک پیٹرول پر لیوی بڑھ کر 107 روپے فی لیٹر سے بھی اوپر پہنچ گئی تھی، جبکہ اس سے قبل ایک ماہ کے دوران اس میں 55 روپے سے زائد اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔
مجموعی طور پر پیٹرول پر مختلف ٹیکسز، جن میں پیٹرولیم لیوی، کسٹم ڈیوٹی اور ماحولیاتی چارجز شامل ہیں، اب بڑھ کر تقریباً 134 روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ چکے ہیں۔گزشتہ جمعہ کو بھی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 26.77 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا، جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 353.42 روپے سے بڑھ کر 380.19 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ تاہم یہ قیمت اب بھی اپریل میں ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح 520.4 روپے فی لیٹر سے کم ہے۔