مہنگائی کے مارے عوام کے لیے ایک اور بُری خبر سامنے آئی ہے، کیونکہ یکم جنوری 2025 سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق، ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر سے زائد کا اضافہ متوقع ہے، جب کہ پٹرول کی قیمتوں کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 1 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان قیمتوں میں تبدیلی کا حتمی اعلان 31 دسمبر 2024 کو کیا جائے گا، جسے وزیر خزانہ وزیرِ اعظم کی مشاورت سے جاری کریں گے۔حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے میں کامیاب ہو چکی ہے، لیکن اس کے اثرات عوام تک نہیں پہنچے ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متوقع اضافہ مزید عوامی مشکلات کا سبب بنے گا، خاص طور پر متوسط طبقے کے لیے، جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔موجودہ صورتحال میں، حکومت کی پالیسیوں کی حقیقت اور عوامی مشکلات کے درمیان بڑا تضاد نظر آ رہا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے روزمرہ کی زندگی کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں، خصوصاً ٹرانسپورٹ اور دیگر اہم خدمات کی قیمتوں میں اضافے کے سبب۔