وزیراعلیٰ پنجاب کے جیل ریفارمز ایجنڈے میں بڑی پیشرفت، تعلیم بالغاں پروگرام کا آغاز

وزیراعلیٰ پنجاب کے جیل ریفارمز ایجنڈے میں بڑی پیشرفت، تعلیم بالغاں پروگرام کا آغاز

پنجاب حکومت کے جیل ریفارمز ایجنڈے کے تحت ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق صوبے کی جیلوں میں اب کسی قیدی کو اَن پڑھ نہیں رہنے دیا جائے گا۔

 اس مقصد کے لیے تمام جیلوں میں باقاعدہ تعلیمِ بالغاں پروگرام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔اس سلسلے میں چیئرمین ٹاسک فورس رانا منان خان اور سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے ڈسٹرکٹ جیل لاہور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے لٹریسی سینٹرز اور کلاس رومز کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر اسیران کے لیے تعلیمی سرگرمیوں کا باضابطہ آغاز کیا گیا اور اساتذہ و طلبہ سے ملاقات بھی کی گئی۔دورے کے دوران اسپیشل سیکرٹری داخلہ زینب خان، آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر، ایڈیشنل سیکرٹری رومان بورانہ، ڈی جی پروبیشن اینڈ پیرول شاہد اقبال، ڈی جی لٹریسی عاصم جاوید، ڈی آئی جی نوید رؤف اور سپرنٹنڈنٹ جیل ظہیر ورک بھی موجود تھے۔حکام کے مطابق پنجاب کی 44 جیلوں میں مجموعی طور پر 176 لٹریسی سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، جہاں ایک وقت میں تقریباً 17 ہزار 600 قیدی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بڑی جیلوں میں 15 جبکہ چھوٹی جیلوں میں 4، 4 لٹریسی سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔

پروگرام کے تحت پڑھے لکھے قیدیوں کو بطور اساتذہ تعینات کیا گیا ہے جبکہ اساتذہ اور طلبہ دونوں کے لیے خصوصی یونیفارم بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ مزید یہ کہ تعلیم حاصل کرنے اور تدریس میں حصہ لینے والے قیدیوں کو سزا میں رعایت دی جائے گی، جبکہ لٹریسی اینڈ بیسک ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اساتذہ کو معاوضہ فراہم کرے گا۔چیئرمین ٹاسک فورس رانا منان خان نے کہا کہ جیلوں کو اصلاحی مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے جہاں قیدیوں کی تعلیمی اسکریننگ بھی کی جائے گی۔ ان کے مطابق جیل انڈسٹریز میں تیار ہونے والی مصنوعات کی فروخت کے لیے بھی جدید نظام متعارف کرایا گیا ہے تاکہ اسیران کو ہنر مند بنایا جا سکے۔سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ اگر کوئی قیدی رہائی سے قبل تعلیم مکمل نہ کر سکے تو اس کی تعلیم کا سلسلہ جیل سے باہر بھی جاری رکھا جائے گا۔

 انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں تقریباً 40 ہزار پروبیشنرز کے لیے بھی تعلیمِ بالغاں پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جیلوں میں پریزن ویلفیئر اسٹورز، اہل خانہ سے باعزت ملاقات اور پریزن ہیلتھ پروگرام جیسے اقدامات بھی جاری ہیں تاکہ قیدیوں کی اصلاح اور بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔حکام کے مطابق اس پورے پروگرام کا مقصد قیدیوں کو بہتر تربیت اور تعلیم دے کر انہیں معاشرے کا مفید شہری بنانا ہے تاکہ رہائی کے بعد وہ دوبارہ جرائم کی طرف نہ جائیں۔