پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تعلیم کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تعلیم کو قومی ایجنڈے میں اولین ترجیح دینی چاہیے۔
انہوں نے ملک بھر میں تعلیم و تدریس کے لیے سرگرم اساتذہ اور تنظیموں کو خراج تحسین پیش کیا۔
تعلیم کو درپیش چیلنجز اور مواقع
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں نظامِ تعلیم کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے زیادہ سرمایہ کاری ضروری ہے۔ انہوں نے تعلیم کو صرف ایک بنیادی حق نہیں بلکہ سماجی اور معاشی تبدیلی کا سب سے مؤثر ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ ملک میں 26 ملین سے زائد بچے اسکول سے باہر ہیں، جو قوم کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
آئین اور پیپلز پارٹی کی تعلیمی خدمات
انہوں نے کہا کہ 1973 کے آئین کے تحت تمام بچوں کو مساوی تعلیمی مواقع فراہم کرنا ایک بنیادی حق ہے۔ بلاول بھٹو نے قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو، اور صدر آصف علی زرداری کے ادوار حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں زیادہ تعلیمی ادارے اور اسکول قائم کیے گئے۔ انہوں نے سندھ حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پرائمری سے ہائر سیکنڈری تک تعلیم مفت فراہم کی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی تھیم کی توثیق
بلاول بھٹو نے اقوام متحدہ کے رواں سال کی تھیم کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کے مطابق پاکستانی نظامِ تعلیم کو نئے چیلنجز کے لیے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تعلیمی معیار بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا، تاہم کہا کہ انسانی رابطہ اور ہمدردی کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ان کے مطابق تخلیقی سوچ، تنقید، اور ہمدردی جیسی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے انسانی ربط ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کا عزم
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہر بچے اور نوجوان کو بغیر کسی تفریق کے معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کو تعلیم کے میدان میں ترقی دینے کے لیے مشترکہ کوششوں اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔