اسلام آباد (ویب ڈیسک) – وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 24 کروڑ آبادی پر مشتمل پاکستان، ڈیجیٹل اسٹارٹ اپس اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے خطے کی سب سے موزوں مارکیٹ ہے۔
انہوں نے یہ بات ڈیجیٹل تعاون تنظیم (DCO) کی سیکریٹری جنرل دیمہ بنت یحییٰ الیحی سے ملاقات کے دوران کہی۔وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھر سے جدید ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھنے والے 1000 سے زائد سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کا پاکستان میں اکٹھا ہونا، اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان ڈیجیٹل معیشت میں اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت نوجوان افرادی قوت ہے، جسے ڈیجیٹل ہنر سے آراستہ کرنے کے لیے حکومت ترجیحی اقدامات کر رہی ہے۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ پاکستان میں کاروبار دوست ماحول اور سرمایہ کاری سہولیات نہ صرف سرمایہ لانے میں مددگار ہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی ممکن بنا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل معیشت اب رجحان نہیں بلکہ انقلاب بن چکا ہے، جو دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہا ہے۔ پاکستان اس عالمی تبدیلی کا حصہ بننے کے لیے پُرعزم ہے۔
700 ملین ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کا اعلان
وزیر اعظم نے "ڈیجیٹل فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فورم 2025" کے دوران شرکت کرنے والے معروف ٹیکنالوجی سرمایہ کاروں کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر سرمایہ کاروں نے پاکستان میں مجموعی طور پر 700 ملین امریکی ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ملاقات میں شامل سرمایہ کاروں اور ان کی سرمایہ کاری درج ذیل ہے:
روسفٹ کے جبار رحیم خان – 500 ملین ڈالر
sAi وینچر کیپیٹل کے طحہٰ نسیم اور احسن جمیل – 100 ملین ڈالر
مشرق بینک کے فرنینڈو موریلو اور محمد ہمایوں سجاد – 30 ملین ڈالر
Mindhyve.ai کے بلال کمال فاروقی – 22 ملین ڈالر
حکومت کا وژن اور تعاون
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو فنانس، ٹیکنالوجی اور جدت کا علاقائی مرکز بنانے کا وژن ہے۔ حکومت ریگولیٹری اصلاحات، مالیاتی مراعات اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعمیر پر کام کر رہی ہے۔ نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارت دینے، بالخصوص مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیٹا سائنس کی تعلیم کے لیے حکومت سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت داری کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے سرمایہ کاروں کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ پاکستان دیرپا اور باہمی فائدے پر مبنی شراکت داری کے لیے تیار ہے۔