لندن: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان معاشی استحکام سے سرمایہ کاری اور خودمختار بحالی سے وسیع تر سرمایہ تشکیل کی جانب بڑھ رہا ہے، جبکہ حکومت کا مقصد معاشی استحکام کو پائیدار ترقی کی بنیاد بنانا ہے۔
لندن میں جے پی مورگن کی ایمرجنگ اینڈ فرنٹیئر مارکیٹس مواقع کانفرنس کے خصوصی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے پاکستان کو درپیش بیرونی معاشی دباؤ، میکرو اکنامک استحکام اور مستقبل کی معاشی حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو کی۔کانفرنس میں پاکستان کے حوالے سے عالمی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور بڑے منی مینیجرز کی جانب سے دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔ مجموعی طور پر 55 عالمی سرمایہ کاری فنڈز نے پاکستانی وفد کے ساتھ ون آن ون ملاقاتوں اور سرمایہ کار سیشن میں شرکت کی، جہاں پاکستان کی معاشی سمت، سرمایہ کاری کے مواقع اور جاری اصلاحات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
حکومت کی 6 اہم معاشی ترجیحات
محمد اورنگزیب نے حکومت کی معاشی سمت واضح کرتے ہوئے چھ اہم ترجیحات بیان کیں۔ ان میں میکرو اکنامک استحکام کو پائیدار بنانا، مالیاتی اور بیرونی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت مضبوط کرنا، پیداواری صلاحیت اور برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دینا، ساختی اصلاحات جاری رکھنا، امداد سے تجارت و سرمایہ کاری کی جانب منتقلی، مالی وسائل تک رسائی میں توسیع اور ڈیجیٹلائزیشن شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلاک چین اور ویب 3.0 سمیت نئی معیشت کے شعبوں کیلئے بھی پاکستان کو مؤثر طور پر تیار کرنا ضروری ہے۔
معاشی استحکام میں پیش رفت
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران حکومت کی بنیادی ترجیح میکرو اکنامک استحکام کی بحالی اور معاشی ساکھ کی تعمیر نو رہی ہے۔ مالیاتی استحکام، بیرونی شعبے، مہنگائی، قرضوں کے انتظام اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے۔ان کے مطابق مالی سال 2026 میں پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد تک بحال ہوئی جبکہ مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک کم ہوا۔ پاکستان نے مسلسل تیسرے سال پرائمری سرپلس بھی ریکارڈ کیا۔
زرمبادلہ ذخائر اور بیرونی شعبہ
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پاکستان کی بیرونی پوزیشن میں بہتری پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے، ترسیلات زر کے بڑھتے ہوئے رجحان اور بیرونی شعبے کے بنیادی اشاریوں میں بہتری کا ذکر کیا۔انہوں نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے آنے والی رقوم، بیرونی شعبے میں اصلاحات اور مالیاتی شعبے کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری کو بھی اجاگر کیا۔
عالمی کیپٹل مارکیٹس تک دوبارہ رسائی
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے فعال قرض انتظام کے ذریعے ملکی قرضوں کی مدت میں اضافہ اور ری فنانسنگ کے خطرات کم کیے ہیں۔ پاکستان نے مختلف مالیاتی ذرائع اور سرمایہ کاروں کے ذریعے عالمی کیپٹل مارکیٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کی ہے۔انہوں نے پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ اور اس کے بعد 3 ارب ڈالر کے دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ کے اجرا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں اجراء میں سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور طلب سامنے آئی۔وزیر خزانہ کے مطابق مقصد صرف فنانسنگ حاصل کرنا نہیں بلکہ عالمی مارکیٹ تک مستقل رسائی برقرار رکھنا، سرمایہ کاروں کا دائرہ وسیع کرنا اور قرضوں کی مدت میں اضافہ کرنا ہے۔
نجی شعبے کیلئے زیادہ مواقع
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں وسیع تر سرمایہ تشکیل کے نمایاں امکانات موجود ہیں۔ حکومت ایکویٹی اور کارپوریٹ ڈیٹ مارکیٹس کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھانے، آئی پی اوز کی سرگرمیوں میں اضافے اور مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلامی فنانس اور صکوک مارکیٹس کی ترقی بھی طویل مدتی سرمایہ کاری کے ذرائع میں اضافہ کرسکتی ہے۔محمد اورنگزیب نے نجکاری کے عمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے کردار کی تنظیم نو کے تحت پی آئی اے، ڈسکوز، مالیاتی اداروں، دیگر سرکاری اداروں اور ہوائی اڈوں کے آپریشنز سمیت مختلف شعبوں میں پیش رفت جاری ہے۔
ایس ایم ایز، زراعت اور ہاؤسنگ پر توجہ
وزیر خزانہ نے کہا کہ ایس ایم ایز، زراعت اور ہاؤسنگ کے شعبوں میں بھی مالی وسائل تک رسائی بڑھائی جا رہی ہے تاکہ معاشی استحکام کو سرمایہ کاری اور پیداواری سرگرمیوں میں تبدیل کیا جاسکے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی آئندہ ترقی کی مالی ضروریات صرف سرکاری بیلنس شیٹس سے پوری نہیں ہوسکتیں، اس لیے نجی سرمائے کو مستقبل میں زیادہ بڑا کردار ادا کرنا ہوگا۔
تجارت، ٹیکنالوجی اور برآمدات
محمد اورنگزیب نے پاکستان کی بڑی داخلی مارکیٹ، نوجوان افرادی قوت اور جغرافیائی محل وقوع کو سرمایہ کاری کے اہم مواقع قرار دیا۔ ان کے مطابق ٹیکس انتظامیہ، ٹیرف، توانائی، سرکاری اداروں اور مالیاتی شعبے میں اصلاحات کا مقصد پیداواری صلاحیت بڑھانا اور معیشت کو برآمدات، ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، معدنیات، زراعت اور ویلیو ایڈڈ خدمات کی جانب منتقل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان روایتی امداد پر انحصار سے آگے بڑھ کر تجارت اور سرمایہ کاری پر مبنی معاشی روابط کی جانب پیش رفت کر رہا ہے۔نئی معیشت کے حوالے سے وفاقی وزیر نے بلاک چین اور ویب 3.0 سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق پاکستان کی نوجوان افرادی قوت اور بڑھتا ہوا ڈیجیٹل ایکو سسٹم عالمی معیشت کے نئے شعبوں میں شرکت کے مواقع فراہم کرسکتا ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی سرمایہ کاری کی کہانی اب صرف فوری معاشی دباؤ سے نمٹنے تک محدود نہیں، بلکہ اصلاحات اور معاشی ترقی کے وسیع امکانات بھی موجود ہیں۔ حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی شعبے کے استحکام اور اصلاحاتی عمل کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملکی و غیر ملکی نجی سرمائے کیلئے مزید گنجائش پیدا کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔