بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں تاریخی شاہی مسجد کے ایک حصے کو سڑک کشادہ کرنے کے منصوبے کے تحت ہٹانے کے معاملے پر کشیدگی پیدا ہوگئی، جہاں احتجاج کرنے والے مقامی افراد اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور لاٹھی چارج کیا، جبکہ پولیس پر پتھراؤ کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کردی گئی۔یہ تنازع 2028 میں ہونے والے سمہاستھا کمبھ میلے کی تیاریوں کے سلسلے میں اجین میں جاری سڑک کشادگی کے منصوبے سے متعلق ہے۔ منصوبے کے تحت شہر میں 272 تعمیرات کو سڑک کی مجوزہ حدود میں آنے کے باعث ہٹانے کے لیے نشان زد کیا گیا ہے، جن میں شاہی مسجد کا ایک حصہ بھی شامل ہے۔رپورٹس کے مطابق مقامی مسلمان کئی روز سے مسجد کے تحفظ کے مطالبے پر وہاں موجود تھے۔ پیر کو انتظامیہ کی جانب سے کارروائی آگے بڑھنے پر بڑی تعداد میں لوگ دوبارہ جمع ہوگئے، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔بھارتی میڈیا کے مطابق مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کے بعد اہلکاروں نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے ذریعے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں پولیس اہلکار اور ریپڈ ایکشن فورس بھی علاقے میں تعینات کردی گئی۔
رپورٹس کے مطابق مسجد کے متنازع حصے میں نماز گاہ اور مینار سمیت بعض تعمیرات شامل ہیں۔ مسجد سے وابستہ افراد کی جانب سے سڑک کی توسیع کے لیے متبادل راستے یا دیگر تعمیراتی حل اختیار کرنے کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔دوسری جانب مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سڑک کی توسیع شہری ترقی اور 2028 کے بڑے مذہبی اجتماع کے دوران ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ اسی منصوبے کے تحت دیگر 272 تعمیرات بھی متاثر ہونے والی ہیں۔حالیہ کشیدگی کے بعد شاہی مسجد کے اطراف سکیورٹی مزید بڑھا دی گئی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق مسجد کے متاثرہ حصے کو ہٹانے کا عمل باہمی اتفاق کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے اور مسجد کمیٹی کی جانب سے بھی متاثرہ حصے کو ہٹانے کا عمل جاری ہے۔