بھارت میں 600 سالہ قدیم شاہی مسجد کے تحفظ کے لیے مسلمان مسجد میں جمع ہوگئے

بھارت میں 600 سالہ قدیم شاہی مسجد کے تحفظ کے لیے مسلمان مسجد میں جمع ہوگئے

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں تاریخی شاہی مسجد کے ایک حصے کو ہٹانے کی مجوزہ کارروائی کے خلاف بڑی تعداد میں مسلمان مسجد میں جمع ہوگئے، جس کے بعد پولیس اور بلڈوزر کی موجودگی کے باوجود کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔

یہ معاملہ 2028 کے سنگھستھ کمبھ میلے کی تیاریوں کے تحت سڑک چوڑی کرنے کے منصوبے سے متعلق ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں سے مسلمان باری باری مسجد میں موجود رہ کر پانچوں وقت کی نمازیں ادا کررہے ہیں۔ اتوار کی رات پولیس کی نفری میں اضافہ کیا گیا، ریپڈ ایکشن فورس تعینات کی گئی اور بلڈوزر بھی موقع پر پہنچائے گئے، تاہم مسجد میں موجود لوگوں کی بڑی تعداد کے باعث کارروائی روک دی گئی۔مسجد کی انتظامیہ اور مقامی افراد نے اس اقدام کی مخالفت کی ہے جبکہ مسجد کی حفاظت کے لیے 11 رکنی نمائندہ کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔ مقامی عالم دین مفتی جنید نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سڑک کی توسیع کے منصوبے سے مزید مساجد بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق مسجد کے اطراف پولیس نے بیریکیڈز لگا رکھے ہیں، جبکہ ظہر کی نماز کے بعد کم از کم ایک ہزار افراد مسجد کے اندر موجود تھے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ مسجد کی حفاظت کے لیے وہاں موجود رہیں گے۔واضح رہے کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے 9 ستمبر کو شاہی مسجد کے ایک حصے کو سڑک کی توسیع کے لیے ہٹانے سے متعلق درخواستیں مسترد کردی تھیں۔ عدالت کے مطابق معاملہ مسجد کے مکمل انہدام کا نہیں بلکہ مجوزہ سڑک کی حدود میں آنے والے حصے کو ہٹانے سے متعلق ہے۔