بھارتی سپریم کورٹ نے طلبہ کی حالیہ احتجاجی تحریک کے دوران مظاہرین کے خلاف مبینہ پولیس تشدد پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محض احتجاج کرنے کی بنیاد پر پولیس لاٹھی چارج نہیں کر سکتی۔
عدالت نے پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم بینچ نے یہ ریمارکس اس وقت دیے جب ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کارروائیوں سے متعلق درخواستیں عدالت کے سامنے پیش کی گئیں۔عدالت کے روبرو ایک درخواست ان طلبہ کی جانب سے دائر کی گئی جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ احتجاج کے دوران پولیس نے ان پر تشدد کیا اور بلاجواز طاقت کا استعمال کیا۔ ایک اور درخواست میں بہار کے ضلع سیوان میں مظاہرین کے خلاف مبینہ طور پر اے کے-47 رائفل استعمال کیے جانے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ اگر پولیس کی جانب سے طاقت کے ناجائز استعمال کے الزامات سامنے آئیں تو ان کی آزادانہ، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔
رپورٹس کے مطابق اس معاملے پر تین روز قبل چیف جسٹس کو ایک خط بھی ارسال کیا گیا تھا، تاہم اس پر کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ بعد ازاں درخواست گزار پریا مشرا نے ایڈووکیٹ نریندر مشرا کے ذریعے سپریم کورٹ میں مفادِ عامہ کی درخواست (پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن) دائر کر دی۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ متعلقہ واقعات سے جڑے تمام الیکٹرانک اور ڈیجیٹل شواہد محفوظ رکھنے کے احکامات جاری کیے جائیں، جن میں سی سی ٹی وی فوٹیج، باڈی کیمرہ ریکارڈنگ، ڈرون ویڈیوز، موبائل فون ریکارڈنگ، سوشل میڈیا مواد، پولیس وائرلیس ریکارڈ، کال لاگز، کنٹرول روم کا ڈیٹا، تعیناتی کے احکامات اور جی پی ایس ریکارڈ سمیت دیگر متعلقہ دستاویزات شامل ہیں۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ شواہد کو ضائع ہونے، تبدیل کیے جانے یا ان میں ردوبدل سے بچانا ضروری ہے تاکہ آزادانہ تحقیقات ممکن ہو سکیں۔ درخواست میں مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ جہاں دستیاب شواہد سے کسی پولیس افسر، سرکاری اہلکار یا سیکیورٹی اہلکار کے خلاف جرم کا ابتدائی ثبوت ملے، وہاں فوری طور پر ایف آئی آر درج کرکے غیر جانبدار اور مقررہ مدت کے اندر تحقیقات کا آغاز کیا جائے۔بھارتی سپریم کورٹ میں زیر سماعت یہ معاملہ ملک میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کے اختیارات، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی سے متعلق اہم بحث کا موضوع بن گیا ہے۔