اسلام آباد میں 26ویں آئینی ترمیم اور جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے خلاف وکلاء کا احتجاج جاری ہے۔
احتجاجی وکلاء نے سپریم کورٹ کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی، تاہم ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر انہوں نے سری نگر ہائی وے پر احتجاج کیا۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان سرینا چوک پر جھڑپیں اور ہاتھا پائی بھی ہوئی، جس میں پولیس نے لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔احتجاج کے پیش نظر ریڈ زون کے داخلی اور خارجی راستے، جیسے سرینا چوک، نادرا چوک، میریٹ، ایکسپریس چوک اور ٹی کراس بری امام، صبح 6 بجے سے تاحکم ثانی عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس نے شہریوں کو متبادل کے طور پر مارگلہ روڈ استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔احتجاج کے باعث راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس کا آپریشن بھی محدود کر دیا گیا ہے۔ میٹرو بس سروس فیض احمد فیض اسٹیشن سے پاک سیکرٹریٹ تک بند ہے، جبکہ راولپنڈی صدر اسٹیشن سے فیض احمد فیض اسٹیشن تک بس سروس بحال ہے۔
دوسری جانب، پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، اور دیگر وکلاء تنظیموں نے جوڈیشل کمیشن اجلاس کے خلاف احتجاج کی کال کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی عناصر کی جانب سے چلائی جانے والی ایسی کوششیں ناکام ہوں گی۔ انہوں نے وکلاء برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کی حمایت میں متحد رہیں۔احتجاج کے دوران وکلاء اور پولیس کے درمیان جھڑپوں اور ریڈ زون کی بندش کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دفتر خارجہ سمیت ریڈ زون میں موجود دفاتر جانے والے افراد کو بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔