وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والی بات چیت انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی اور اس سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، اور امریکی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ہدایت دی گئی۔وزیراعظم نے بتایا کہ ملاقات کے دوران تیل و گیس، معدنی وسائل اور سرمایہ کاری کے منصوبوں پر تفصیلی بات ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ روایتی جنگ جیت لی اور امریکی بروقت مداخلت سے صورتحال سنگین ہونے سے بچ گئی۔ اسی وجہ سے پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا۔شہباز شریف نے پاکستان کی افواج کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا، خاص طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی خدمات کو سراہا، جنہوں نے ملک کے دفاع اور عالمی سطح پر ایٹمی صلاحیت کی برتری ثابت کی۔وزیراعظم نے بتایا کہ فوج اور حکومت کے درمیان بہترین ہم آہنگی موجود ہے، اور اگر یہ سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان جلد دنیا میں ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر سامنے آئے گا۔ انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے حالیہ دفاعی معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
شہباز شریف نے فلسطین کے مسئلے پر بھی دو ٹوک مؤقف اختیار کیا، کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ اور عرب سربراہی اجلاسوں میں مظلوم فلسطینیوں کی بھرپور حمایت کی ہے اور 2023ء سے جاری غزہ کی تباہی تاریخِ حاضر میں ظلم کی بدترین مثال ہے، تاہم امید ہے کہ بہت جلد مسئلے کا پائیدار حل نکل آئے گا۔مزید برآں، وزیراعظم نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث حالیہ سیلابوں کی تباہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اور سندھ میں ہزاروں افراد جاں بحق اور فصلیں برباد ہوئیں، تاہم حکومت معیشت کی بحالی اور عوام کی مدد کے لیے پرعزم ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان طاقت کے حصول کی دوڑ میں شامل نہیں بلکہ خوشحالی، روزگار، زراعت، معدنیات اور آئی ٹی کے فروغ پر توجہ دے رہا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت دینے پر زور دیا تاکہ وہ ملک میں حقیقی انقلاب لا سکیں۔