وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمٰن کو دینی مدارس کی قانون سازی کیلئے حمایت کی یقین دہانی کرائی

وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمٰن کو دینی مدارس کی قانون سازی کیلئے حمایت کی یقین دہانی کرائی

وزیراعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمٰن کو دینی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے صوبوں میں قانون سازی کی حمایت کی یقین دہانی کرادی۔

 ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے وزیراعظم کو ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور دینی مدارس کے رجسٹریشن کے حوالے سے صوبوں میں قانون سازی کرنے کی درخواست کی۔ وزیراعظم نے اس درخواست پر فوری طور پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اس قانون سازی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے رابطہ کریں گے اور ان کی حمایت حاصل کریں گے۔یہ بات اہم ہے کہ گزشتہ ماہ صدرِ مملکت نے دینی مدارس کی رجسٹریشن کے لیے سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد یہ بل قانون کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ اس کے بعد قومی اسمبلی نے اس بل کے حوالے سے گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا، جس کے تحت دینی مدارس کو رسمی طور پر رجسٹر کیا جائے گا۔

اس قانون کے تحت اب تمام دینی مدارس کو ایک قانونی ڈھانچے کے تحت رجسٹر ہونا ہوگا اور ان کے انتظامات، مالیاتی سرگرمیوں اور نصاب پر حکومت کی نگرانی ہوگی۔ اس قانون کا مقصد دینی مدارس میں اصلاحات لانا اور انہیں ملکی قوانین کے مطابق چلانے کی کوشش کرنا ہے تاکہ مدرسوں کے طلباء کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔وزیراعظم نے اس قانون سازی کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ وزرائے اعلیٰ سے بات کرکے اس اہم معاملے کو جلد حل کرنے کی کوشش کریں گے۔