جعفرکے پیچھے کافر

 فرخ ریاض بٹ     
یورپ میں ٹریک کنٹرولز نظام موجود ہے جو اگر ریلوے ٹریکس کس بھی جگہ بم فٹ ہے تو پہلے کنٹرول روم اطلاع مل جاتی ہے کہ فلاں جگہ ٹریکس میں بم فٹ ہے یہ ماڑرن ٹیکنالوجی موجود ہے پاکستان ریلوے اس سسٹم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور ہر قسم کی دہشت گردی سے بچا جا سکتا ہے۔ہم سب پاکستانی ہیں سب سے پہلے ہمارا آپ سب کا پیارا پاکستان۔ آخر کب تک ایسا چلتا رہے گا  آخر کون لوگ ہیں کہ جو بلوچستان ما امن بر باد کرنے پر تلے ہیں ان کے پیچھ کون سے خفیہ ہاتھ ہیں کہ جو ان کا اپناآلہ کار بنا کر استعمال کر رہے ہیں ۔اخبارات اور عالمی خبروں سے خبریں ملتی ہیں کہ مودی سرکار جو ہے مکمل بے کار کہتا ہے کہ پاکستان جموں کشمیر میں مداخلت چھوڑ دے ہم بھی بلوچستان اور kpkمیں مداخلت بند کر دیںگے اب ہر کسی کے پاس ماڈرن موبائل ہے پاکستان تو صرف یو این اوکے چارٹر کے مطابق عالمی سطح پر جموں کشمیر کی حمایت کر رہا ہے لیکن فوجی مداخلت نہیں کر رہا جبکہ مودی کا الزام جھوٹ ہے میرا دو ماہ قبل کالم تھا کہ بلوچستان کو عملی طور پر مکمل طور پاک مسلح افواج کے حوالے کر دیا جائے یعنی سیاسی مسائل بلوچستان کے اتحادی حل کریں اور بقیہ امن عامہ کے حوالے سے پاک مسلح افواج اور رینجرز اپنا کر دار ادا کریں اب جبکہ وفاقی سطح پر وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور صدر پاکستان آصف علی زرداری  اور وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بے شمار بلوچ عوام کیلئے ابتدائی سہولتوں کا اعلان کیا ہے بلوچوں کی تعلیم و تربیت مئوثر روزگار کاروباری بلوچوں کے لئے بے شمار انقلابی سطح پرفلاحی اقدامات کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ ترجیحی بنیادوں پر امداد کا سلسلہ شروع کیا ۔ پھر امریکہ چائینہ روس فرانس جرمنی نے پاکستان میں خاص کر بلوچستان میں سرمایہ کاری کے پروگرام مرتب کئے اور قدرتی معدنیات نکالنے کی غرض سے پروگرام ترتیب دئیے تاکہ ان اقدامات سے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورا پاکستان مستفید ہو گا خاص کر بلوچستان کوئٹہ چمن اور ہرنائی دیگر علاقوں قصبوں کے لوگوں کو بہتر کاروبار ملے گا اور خوشحالی کا دور شروع ہو گا ۔ اب جبکہ غزہ فلسطین کو دنیا ئے ممالک نے ان کی ساکھ کو قبول کیا ہے پاکستان بھر میں نئی تعمیرات ترقی خوشحالی کے دروازے کھل رہے ہیں پاکستان سے آئی ایم ایف کا بھوت اتر رہا ہے علاوہ ہماری بہادر مسلح افواج دن رات سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے اور ملک کے اند ر دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں مسلح افواج ان کا مردانہ وار مقابلہ کر رہی ہے ہمیں اپنی بہادر مسلح افواج پر فخر ہے۔ یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے مودی گردی ہے اب سوال یہ ہے کہ آخرجعفر ایکسپریس کو ہی کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ اس لئے کہ جعفر ایکسپریس واحد ریل ہے جو چاروں صوبوں کو ملاتی ہے۔ دہشت گردوں کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پاک فوج ،رینجرز ، ایف سی سے  جیک آبادسے سبی، کوئٹہ اورچمن تک مکمل کنٹرول سنھبال لیں۔ ریل کے آنے جانے کا انتظار نہ کریں بلکہ چوبیس گھنٹے جانچ پڑتال جاری رکھیں۔اب بہت ہو چکا جو دہشت گردی ریل کی پٹریوں پرٹائم بم فٹ کرتے ہیں اور جب یہ پکڑیں جائیں ویسے ہی انہیں ٹائم بم سے اڑا دیا جائے ۔یہ مٹھی بھر دہشت گرد  فتنہ بھارت ہیں ابتدائی تحقیقات کے بعد انہیں سرعام گولیوں سے اڑا دیا جائے اب ایک طرف جماعت اسلامی الخدمت فائونڈیشن کے ذریعے پاکستان بھر میں خدمت کر رہی ہے دوسری طرف ptiبانی کی حمایت کر رہی ہے اور شور مچا رہے ہیں کہ بلوچستان میں فوجی چیک پوسٹ ختم کئے جائیں یہ باتیں حکومت اور خفیہ ایجنسیوں مسلح افواج، رینجرز ایف سی کے لئے لمحہ فکر ہے آج کراچی میں میئر شپ جماعت اسلامی کے پاس ہوتی اور بلوچستان صوبائی اسمبلی میں وزارت ہوتی تو سب ٹھیک تھا جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق 10سال خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے سینئر صوبائی وزیر رہے اب جماعت اسلامی اورپی ٹی آئی کے بانی کا خیال ہے کہ بنگلہ دیش اور نیپال طرز کی تبدیلی پاکستان میں آئے گی تو ان کی یہ خواب خیالی ہے۔میں آخر میں اپنی پاک بہادر مسلح افواج، رینجرز ایف سی سے درخواست کرتا ہوں کہ خدارا جیکب آباد سے سندھ سبی کوئٹہ چمن ریلوے ٹریکس چوبیس گھنٹے اپنی نگرانی میں لے لیں اور جنگی بنیادوں پر ان ٹریکس کی حفاظت کریں اور مقامی پولیس اور عام لوگ بھی اس نیک کام میں اپنی پاک بہادر مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہیں ۔