ارشد مہدی جعفری
عجیب سا سناٹا ہے۔ جیسے سب کچھ ٹھیک ہو۔۔۔ مگر درحقیقت ہر طرف بارود کی بو ہے۔ دنیا بھر کے حکمران عوام کو امن کا وعدہ دیتے ہیں، لیکن ان کے ہاتھوں میں تیزی سے جدید ہتھیار آتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف مہنگائی، بے روزگاری، اور بھوک کی لکیریں بڑھ رہی ہیں، دوسری طرف جنگی بجٹ میں ہوش رْبا اضافہ۔ آخر دنیا کس سمت جا رہی ہے؟ کیا انسانیت واقعی بقاء چاہتی ہے یا تسلط؟
یہ سچ ہے کہ اب جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں ہوتیں۔ میڈیا، معیشت، ڈپلومیسی، اور یہاں تک کہ ڈیجیٹل حملے بھی جنگ کا ہی ایک روپ ہیں۔ لیکن جب تمام ممالک یکے بعد دیگرے اربوں ڈالر کے ہتھیار خریدتے نظر آتے ہیں تو بات محض دفاع تک محدود نہیں رہتی۔
ہر ملک اب رعب اور دبدبہ دکھانے کی کوشش میں ہے۔ کوئی میزائل رینج بڑھا رہا ہے، کوئی خفیہ سٹیلتھ ڈرونز کی ریس میں ہے، کوئی خلائی ہتھیار بنا رہا ہے۔ یہ سب ایک نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے، تاکہ کمزور ممالک خوف میں رہیں اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہ رکھیں۔
دنیا میں ہتھیاروں کی دوڑ اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، حتیٰ کہ بحرین تک جدید ترین ٹینک، ڈرونز، اور ایئر ڈیفنس سسٹمز خرید رہے ہیں۔ ان ممالک کی قیادتیں کہتی ہیں یہ سب دفاع کے لیے ہے، لیکن ایک لمحے کو رک کر سوچا جائے: اگر سب دفاع کے لیے ہتھیار لے رہے ہیں تو حملہ کرے گا کون؟ جنگیں تو تبھی ہوتی ہیں جب کہیں نہ کہیں کوئی پہلے گولی چلاتا ہے۔
ایسے میں سوال یہ نہیں کہ جنگ ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کو روکے گا کون؟
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ہتھیاروں کا انبار لگتا ہے، تو جلد یا بدیر ان کا استعمال ہوتا ہے۔ دنیا کی موجودہ صورتحال دیکھ کر یہ کہنا مشکل نہیں کہ ہم کسی بڑے جنگی تصادم کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ یوکرین روس جنگ اب تک تھمی نہیں، چین اور تائیوان کی کشمکش بڑھ رہی ہے، شمالی کوریا وقتاً فوقتاً میزائل تجربے کر رہا ہے، اور مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر آگ کی زد میں ہے۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بھڑکنے کو ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان مسلسل چنگاریاں اْٹھ رہی ہیں۔ غزہ کے آسمان اب بھی راکھ میں لپٹے ہوئے ہیں، اور حزب اللہ کی سرگرمیاں اسرائیلی بارڈر پر مسلسل اشتعال پیدا کر رہی ہیں۔ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں نہ صرف ایران کو دوبارہ عالمی خطرہ قرار دیا، بلکہ اسرائیل کی "جارحانہ خود دفاعی پالیسی" کو درست قرار دے کر، درحقیقت ایک نئی جنگ کا اشارہ بھی دے دیا۔ یہ بیان صرف سیاسی نہیں، بلکہ سفارتی طور پر ایک بڑے محاذ کی پیش گوئی بھی ہے۔
بھارت کی بڑھتی ہوئی معاشی و عسکری ترقی بھی جنوبی ایشیا کے توازن کو چیلنج کر رہی ہے۔ آج بھارت نہ صرف خلائی ٹیکنالوجی میں آگے بڑھ رہا ہے بلکہ فرانسیسی رافیل طیاروں، روسی میزائل سسٹمز، اور اسرائیلی ڈرونز کی خریداری میں بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرحدوں پر جارحیت، اور کشمیر میں مسلسل مظالم اس بات کا عندیہ دے رہے ہیں کہ بھارت خطے میں اپنی برتری قائم کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے ساتھ محدود یا مکمل جنگ چھیڑنے کی نیت پال چکا ہے؟
جہاں اندرونِ ملک سیاست اور معیشت کا عدم توازن قوم کو ٹوٹنے کے دھانے پر لا کھڑا کرتا ہے، وہیں پاکستان کی خارجی محاذ پر بھی مشکلات کم نہیں۔ بھارت، جو کہ پاکستان کا روایتی دشمن رہا ہے، ایک طرف تو خود فتنہ پرور انتہا پسند سوچ میں بْری طرح جھلس چکا ہے، لیکن دوسری جانب بلوچستان میں مسلسل مداخلت کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے میں لگا ہوا ہے۔ گو فتن? ہند کو عسکری سطح پر کئی بار خاک میں ملایا گیا، مگر اْس کی پراکسی چالیں اب بھی ہمارے امن کے درپے ہیں۔
اس کے بالمقابل افغانستان، جسے پاکستان نے ہمیشہ برادر اسلامی ملک کا درجہ دیا، وہاں سے بھی زخموں کے سوا کچھ نہ ملا۔ بھائی چارے، مہمان نوازی اور پناہ دینے کی بنیاد پر اْٹھائے گئے اقدامات کا جواب دشمنی، دراندازی، اور بے وفائی کی صورت میں ملا۔ چمن اور طورخم بارڈر پر حالیہ واقعات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ تاریخ، جذبات سے زیادہ، زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھی جانی چاہیے۔
پاکستان کے دفاعی ادارے اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھا رہے ہیں۔ ہماری فوج، میزائل سسٹم، ایئر ڈیفنس، اور نیوی ہر ممکن خطرے کے خلاف تیار ہیں۔ لیکن اصل جنگ داخلی محاذ پر ہے۔ معیشت کا زوال، سیاسی عدم استحکام، مہنگائی، اور سماجی انتشار وہ عوامل ہیں جو کسی بھی ملک کو باہر سے کم اور اندر سے زیادہ کمزور کرتے ہیں۔ دشمن حملہ تب کرتا ہے جب وہ جانتا ہے کہ اندر سے قلعہ کھوکھلا ہے۔
پاکستان کا مسئلہ صرف بیرونی خطرات نہیں، بلکہ اندرونی استحکام کا فقدان ہے۔ سیاستدان باہم دست و گریباں، ادارے دباؤ میں، عدلیہ بے توقیر، اور عوام الجھنوں کا شکار ہیں۔ سرمایہ کار بھاگ رہا ہے، تعلیم تنزلی کا شکار ہے، اور میڈیا ایک خاص بیانیے تک محدود ہو چکا ہے۔ اس ماحول میں اگر دشمن خدانخواستہ چال چلتا ہے، تو صرف بندوق کام نہیں آئے گی، قومی یکجہتی بھی درکار ہوگی۔
ایسے میں پارلیمان سے ایسی خبریں آنا کہ چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، وزرا، ایم این ایز اور ایم پی ایز کی تنخواہوں میں ہزاروں گنا اضافہ کر دیا گیا ہے، ایک ایسے زخم پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے جو پہلے ہی ریاستی بے حسی سے جل رہا ہو۔ وہ عوام جنہوں نے دو وقت کی روٹی کے لیے جیبوں سے آخری سکے نکال دیے، ان کے نمائندے اپنی تنخواہیں بڑھا کر کس کو پیغام دے رہے ہیں؟ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست اور عوام کے درمیان خلیج وسیع تر ہوتی جاتی ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک طرف قوم کا جسم ہے جو زخم زخم ہے، اور دوسری طرف اْن ہاتھوں کو مزید طاقتور کیا جا رہا ہے جو صرف خواب دکھانے کے ماہر ہیں، تعبیر دینے کے نہیں۔
معاشی پائیداری کے بغیر دفاعی صلاحیت بھی محدود ہو جاتی ہے۔ جب ملک میں روزگار نہیں ہوگا، جب نوجوان مایوس ہوں گے، جب کرپشن اور ناانصافی عام ہوگی، تو دشمن حملہ کیے بغیر بھی فتح حاصل کر لے گا۔ اور یہی آج کا اصل خطرہ ہے۔
ایسے میں پاکستان جیسے ممالک کو چاہیے کہ وہ سفارتی محاذ پر سرگرم ہوں، علاقائی اتحاد بنائیں، اور سب سے بڑھ کر اپنی عوام میں شعور، اعتماد، اور یکجہتی پیدا کریں۔ دفاع صرف بندوق سے نہیں ہوتا، بلکہ وہ قوم خود کو کیسے چلاتی ہے، وہی اصل طاقت بنتی ہے۔
اب وقت ہے کہ ہم صرف دشمن کا چہرہ نہ دیکھیں، بلکہ اپنے اندر جھانکیں۔ کمزوریاں تلاش کریں، اصلاح کریں، اور اپنے نوجوانوں کو علم، کردار، اور جدوجہد کا ہتھیار دیں۔ یہی اصل دفاع ہے، اور یہی جنگ سے بچاؤ کی واحد صورت۔