سیکھو! ورنہ پیچھے رہ جائو گے

 ڈاکٹر جمشید نظر
وہ لاہور کی ایک چھوٹی سی گلی میں رہتا تھا۔عمر بیس سال، تعلیم میٹرک لیکن ہاتھ میں کوئی ہنر نہیں تھا،والد ریٹائرڈ کلرک تھے، ماں دل کی مریضہ،  گھر کا چولہا اس کی نگاہ کا محتاج تھا۔اس نے سب سے پہلے ٹھیلے پر چاٹ بیچنا شروع کی پھر شوارما لیکن گھر کے خرچے پوارے نہ کرسکا پھر اس نے یوٹیوب پر ’’فوٹو ایڈیٹنگ‘‘ کا ایک مفت کورس دیکھا،اس نے کورس کو سیکھنے کی ٹھانی،تین شوارمے بیچنے کے ساتھ ساتھ فارغ وقت میںماہ یوٹیوب پر کورس سیکھتا رہا اورپھرکورس سیکھ کر فوٹو ایڈیٹنگ کا آن لائن کام شروع کردیا۔ وہ دن تھا اور آج کا دن،وہ لڑکا اب پچاس سے نوے ہزار روپے تک ماہانہ کمانے لگ گیا۔لڑکا فری لانسر ہے لیکن اپنے گھر کا اچھاسہارابن چکا ہے۔یہ صرف ایک کہانی نہیں بلکہ مستقبل کی تصویر ہے۔ دنیا بدل چکی ہے اب کامیابی کے لیے نہ’’ بی اے‘‘ ضروری ہے، نہ ’’ایم اے‘‘، نہ سفارش اور نہ نوکری بلکہ آج سب سے اہم صرف’’سکل‘‘ ہے۔وہ سکل جو آپ کو خود کفیل بنا دے، جو آپ کو دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے روزگار دے سکے۔15 جولائی کا دن بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ نوجوانوں کو صرف نصاب نہیں بلکہ ہنر بھی دیں۔
یہ جولائی 2014 کی بات ہے۔اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک تجویز منظور ہوئی۔تجویز چھوٹی سی تھی لیکن اثر بہت بڑا تھا۔اقوام متحدہ نے اعلان کیا کہ  15 جولائی کو نوجوانوں کی مہارتوں کا دن منایا جائے گا۔آپ پوچھیں گے کیوں؟ وجہ سادہ تھی ۔ دنیا بدل رہی تھی ،ڈگریاں بے کار ہو رہی تھیں اور مہارتیں قیمتی،ملازمتیں کم ہو رہی تھیں اور خودروزگار بڑھ رہا تھا۔’’ورلڈ یوتھ اسکلز ڈے ‘‘ کو مناتے  10 سال ہو چکے ہیں لیکن آج کا ہر نوجوان ابھی بھی ان مہارتوں کا حاصل نہیں کرسکا جس کا خواب دیکھا گیا تھا اسی لئے اس سال کا موضوع ہے’’مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل مہارتوں کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانا‘‘۔یہ صرف ایک تھیم نہیں بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا چوتھے صنعتی انقلاب میں داخل ہو چکی ہے،مشینیں انسانوں سے تیز ہو چکی ہیں،AI ہماری سوچ، تعلیم اور روزگار سب پر اثر انداز ہو رہی ہے اب مسئلہ یہ ہے کہ جو نوجوان سیکھ رہا ہے، وہ آگے بڑھ رہا ہے اور جو سست ہے، وہ پیچھے رہ رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ، ILO، UNESCO، اور کئی ممالک 15 جولائی کو اس حوالے سے مختلف تقاریب منعقد کر رہے ہیں۔نیویارک، پیرس، بینکاک سمیت دنیا بھر میں نوجوانوں، پالیسی سازوں، ماہرین تعلیم اور اداروں کو اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ سب یہ جان سکیں کہ اگر ہم نے نوجوانوں کو AI، کوڈنگ، ڈیجیٹل سکلز نہ سکھائیںتو ہم ترقی کی اس دوڑ میں صرف تماشائی بن کر رہ جائیں گے۔TVET یعنی تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت آج سب سے اہم شعبہ بن چکاہے۔اقوامِ متحدہ کے’’ایجو وکیشن وژن 2030 کے مطابق ہمیں نوجوانوں کو ایسے ہنر دینے ہیں جو انھیں روزگار، خود انحصاری اور کاروبار کی طرف لے کر جائیں۔یہ کوئی خواب نہیں، یہ حقیقت ہے۔اقوام متحدہ نے اپنی ویب سائٹ پر ’’گیمبیا‘‘ کے چوبیس سالہ نوجوان ’’الحادگی فَال‘‘ کی تصویر کے ساتھ مثال پیش کی ہے کہ کس طرح اس نے صرف تین ماہ میں سبزی اُگانے کی تربیت حاصل کی اور آج وہ اپنے بھائی کے ساتھ مل کر اسٹرابیری کا ایک بڑا بزنس چلا رہا ہے ۔اب سوچیں،اگر ایک افریقی نوجوان تربیت کے بعد خودکفیل ہو سکتا ہے تو ہمارے نوجوان کیوں بے روزگار ہیں؟اس کی بنیادی وجہ ایک ہے وہ یہ کہ ہم نے انہیں صرف ڈگری دی، ہنر نہیں دیا۔ہم نے ان کو ماضی پڑھایا، مستقبل نہیں سکھایا۔آج دنیا میں ہر کامیاب شخص کے پاس دو چیزیں ہیں’’ڈیجیٹل مہارت اور سیکھنے کا جذبہ‘‘۔
اگر پنجاب حکومت کی بات کریں تووزیراعلی مریم نواز شریف نے نوجوانوں کوڈیجیٹل مہارتیں اورمصنوعی ذہانت کی تربیت دینے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں مثال کے طور پر’’فری ای-روزگار پروگرام‘‘،’’چیف منسٹر (CM) اسکِلز ڈیویلپمنٹ پروگرام‘‘،’’پنجاب ڈیجیٹل اسکلز پروگرام 2025 (دیہی خواتین کے لیے)،’’اسمارٹ کلاس رومز و ڈیجیٹل لیبز‘‘،’’نواز شریف آئی ٹی سٹی (لاہور)‘‘ وغیرہ ان پروگرامز کے علاوہ بھی متعدد آئی ٹی منصوبے اور نوجوانوں کو مفت فنی و تکنیکی تربیت مفت فرام کی جارہی ہے۔ آج جب دنیا AI اور ڈیجیٹل انقلاب کی سمت دوڑ رہی ہے تو مریم نواز نے نوجوانوں کو صرف ڈگریاں نہیں بلکہ جینے کے لئے حقیقی اوزار دیئے ہیں۔اگروزیراعلیٰ مریم نواز نے نے اپنا یہ مشن جاری رکھا تو نہ صرف نوجوان بلکہ پاکستان کی آنے والی نسلیں ان پر فخر کریں گی کیونکہ قومیں ڈگریوں سے نہیں، مہارتوں سے بنتی ہیں۔