وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور ہائیکورٹ میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے اہم پیغام دیا ہے کہ انہیں یہاں لایا گیا نہیں بلکہ عوام کے منتخب نمائندے کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا اصل مقصد صرف اور صرف قانون کی حکمرانی (رول آف لاء) کو برقرار رکھنا ہے، اور اس میں کسی قسم کا اثر انداز ہونے یا اثر رسوخ حاصل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔انہوں نے اس حوالے سے کہا کہ سنا ہے کہ وہ یہاں بار کونسل کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے آ رہے ہیں، لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف قانون کی بالادستی کے لیے یہاں موجود ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ پی ٹی آئی کے بانی سے ملاقات کے خواہشمند ہیں تاکہ پالیسی گائیڈ لائنز اور رہنمائی حاصل کی جا سکے، اور اس سلسلے میں انہوں نے محکمہ داخلہ کو خطوط لکھنے کی ہدایات بھی دی ہیں تاکہ پنجاب اور وفاقی حکومت سے ملاقات کا انتظام کیا جا سکے۔
سہیل آفریدی نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے عدالت میں ملاقات کے لیے درخواست دائر کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا کام جاری رکھنا چاہتے ہیں اور کسی بھی سیاسی یا اثر انداز ہونے کی کوشش سے بچنا چاہتے ہیں۔ ان کے اس بیان سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری اور اصول پسندی سے انجام دینے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں، اور عوام کے منتخب نمائندے کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھانے کے لیے پرعزم ہیں۔