خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی آج پھر اڈیالہ جیل پہنچے تاکہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے ملاقات کریں، مگر پولیس نے انہیں ناکہ پر روک لیا۔
اس کے باوجود، انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور وہ واپس روانہ ہوگئے۔سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ دسویں مرتبہ اڈیالہ جیل آئے ہیں، لیکن ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود بھی عدالتی احکامات کے باوجود انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے وہاں ایک بیرئیر لگا رکھا ہے اور یہ سوال اٹھایا کہ کیا وہ ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ نہیں ہیں۔انہوں نے حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دن پہلے بانی کی بہنوں کے ساتھ جو ہوا، وہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بانی اور ان کی اہلیہ کو ناحق قید میں رکھا گیا ہے اور بانی کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ پنجاب کی جعلی حکومت کے احکامات پر یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ سب کچھ 1947 سے ایک ہی نسخہ آزماتے ہوئے کیا جا رہا ہے تاکہ عمران خان کو مائنس کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آزاد عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی کے حق میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل ہو۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بانی عمران خان نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو مذاکرات کا اختیار دیا ہے اور وہ ہر فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان پاکستان سے باہر جا رہے ہیں اور تین سال سے ناکام تجربات ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تباہی کی طرف جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے لیڈر عمران خان سے ملنے کا حق رکھتے ہیں، مگر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔آج پھر، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی کو ناکہ پر روک دیا گیا اور وہ واپس روانہ ہو گئے، جس کا سبب پولیس کا ناکہ تھا۔ وہ اڈیالہ روڈ پر داہگل کے قریب سے واپس بھیجے گئے۔