ویب ڈیسک: جمیکا کی تاریخ کا طاقتور ترین سمندری طوفان ‘میلیسا’ (Melissa hurricane) اس جزیرہ نما ملک میں تباہی مچانے کے بعد کیوبا کی جانب مڑ گیا ہے۔
یہ طوفان کیٹیگری 4 کا ہے، جس میں ہواؤں کی رفتار 185 میل فی گھنٹہ (295 کلومیٹر فی گھنٹہ) ریکارڈ کی گئی، جو کہ کیٹیگری 5 کے طوفان سے بھی زیادہ شدت کا مظہر ہے۔ جمیکا کے جنوبی مغربی قصبے نیو ہوپ کے قریب ٹکرا کر سینٹ ایلزبیتھ کا علاقہ مکمل طور پر زیرِ آب آ گیا، اور 5 لاکھ سے زائد افراد بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔جمیکا کے وزیرِ اعظم اینڈریو ہولنس نے بتایا کہ اسپتالوں، مکانات، تجارتی عمارتوں اور سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تاحال کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی، مگر جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکی نیشنل ہری کین سینٹر کے مطابق، جب یہ طوفان جمیکا کے پہاڑی علاقوں سے گزرا، تو اس کی رفتار کم ہو کر 145 میل فی گھنٹہ رہ گئی ہے، اور اب یہ کیوبا کے شہر سانتیاگو دی کیوبا کی سمت بڑھ رہا ہے۔کیوبا میں 5 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، اور حکام نے شہریوں کو نقل مکانی کے احکامات دیے ہیں، کیونکہ یہ طوفان بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کا خدشہ ہے۔
جمیکا میں طوفان سے نمٹنے کی کوششوں کے دوران 3 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، اور ایک ڈیزاسٹر کوآرڈینیٹر فالج کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم نے اسے “صدی کا طوفان” قرار دیا ہے، اور ماہرین کے مطابق، میلیسا کی شدت کیریبیئن میں 2005 کے ‘ولما’ اور 1988 کے ‘گلبرٹ’ کے بعد سب سے زیادہ ہے۔وزیرِ اعظم ہولنس نے 33 ملین ڈالر کے ہنگامی فنڈ اور زرعی بحالی کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق، 15 لاکھ افراد براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ ایک مقامی باشندے نے طوفان کی شدت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ “یہ شیر کی دھاڑ جیسا تھا — جنونی، بے قابو اور خوفناک۔”