سمندری طوفان ’’ملیسا‘‘ جس نے پہلے جمیکا اور کیوبا میں تباہی مچائی، اب بہاماس کی جانب بڑھ رہا ہے۔
یہ طوفان کیٹگری تھری سے تبدیل ہو چکا ہے اور اس کی شدت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ اب تک طوفان سے کم از کم 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ہیٹی میں 25، جمیکا میں 4 اور ڈومینیکا میں 1 شامل ہے۔جمیکا میں ملیسا نے جنوبی ساحلی علاقے سینٹ الزبتھ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جہاں ہوا کی رفتار 185 میل فی گھنٹہ (تقریباً 295 کلومیٹر فی گھنٹہ) تک ریکارڈ کی گئی۔ سینٹ الزبتھ میں گھروں کی چھتیں اڑ گئیں، سڑکیں سیلابی پانی میں ڈوب گئیں اور لاکھوں افراد بجلی سے محروم ہو گئے۔ حکام نے ملک کو ’’آفت زدہ علاقہ‘‘ قرار دیا ہے، اور غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق کم از کم 4 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔کیوبا میں ملیسا نے جنوب مشرقی ساحل سے ٹکرائی، جہاں اس کی شدت کیٹگری 3 تھی، جس کے نتیجے میں شدید بارشیں اور تیز ہوائیں چلیں۔ تقریباً 7 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان صوبہ سینتیاگو دے کیوبا اور اس کے اطراف کے علاقوں میں ہوا، جہاں گھروں کی چھتیں اڑ گئیں، سڑکیں بند ہیں اور ہسپتالوں سمیت بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قدرتی آفت نے ملک کے پہلے سے جاری معاشی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ملیسا اب جنوبی بہاماس کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں پہلے ہی انخلا کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طوفان کے نتیجے میں 5 سے 8 فٹ تک سمندری لہریں پیدا ہو سکتی ہیں، اور شدید بارشوں سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔ حکام نے ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور عوام کو محتاط رہنے، اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
طوفان کی شدت میں تیزی کے باعث ماہرین تشویش میں مبتلا ہیں۔ یہ سال کے چند سب سے خطرناک طوفانوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام کو تباہ کر دیا ہے۔ پہاڑی اور نچلے علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے امکانات بڑھ گئے ہیں، جس سے امدادی کارروائیاں مشکل ہو گئی ہیں۔ رہائشیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہوں، اور گھروں کی چھتوں، دروازوں اور کھڑکیوں کو مضبوطی سے بند رکھیں۔ ضروری اشیاء جیسے پانی، خوراک، ادویات اور بیک اپ لائٹس تیار رکھیں، کیونکہ بجلی اور مواصلات طویل عرصے تک معطل رہ سکتے ہیں۔ امدادی ٹیموں کو دشوار گزار علاقوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پرسکون رہیں، افواہوں سے بچیں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔