بارڈر مینجمنٹ پر سیکیورٹی اداروں کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

بارڈر مینجمنٹ پر سیکیورٹی اداروں کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ بارڈر مینجمنٹ پر گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اور افغان سرحد سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں

پاکستان کے فوج کے ترجمان اور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سینئر صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف متحرک اور مربوط کارروائیاں کی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 4 نومبر 2025 سے اب تک دہشت گردی کے خلاف تقریباً 4910 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے ہیں۔ رواں سال خیبر پختونخوا میں 12,857 اور بلوچستان میں 53,309 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز انجام دیے گئے، جن کے نتیجے میں 206 دہشت گرد مارے گئے۔ مجموعی طور پر اس سال 1873 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے، جن میں 136 افغان بھی شامل ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاک افغان سرحد انتہائی دشوار گزار اور مشکل راستوں پر مشتمل ہے، جس کا طول 1229 کلومیٹر ہے اور اس پر 20 کراسنگ پوائنٹس موجود ہیں۔ سرحد پر پوسٹوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بارڈر فینس مؤثر بنانا ہے تو اسے آبزرویشن اور فائر سے کور کرنا ہوگا، اور اس کے لیے وسیع وسائل درکار ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں سرحد کے دونوں اطراف گاؤں ہیں، جس کی وجہ سے آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا میں بارڈر مینجمنٹ دونوں ممالک کے تعاون سے ہی ممکن ہے، لیکن بدقسمتی سے افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے سہولت کاری افغان طالبان فراہم کرتے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سرحدی علاقے انتظامی مسائل، گورننس کے بحران اور سیاسی ٹیرر کرائم سے بھی متاثر ہیں، اور یہاں سہولت کار گروہ موجود ہیں جو دہشت گردوں اور اسمگلنگ کی تشکیلیں کرتے ہیں۔ اگر لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں پاکستان میں گھوم رہی ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ گاڑیاں دہشت گردی اور خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں۔انہوں نے دوحہ معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغان طالبان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں، کیونکہ پاکستان کا مقصد امن اور سلامتی ہے۔