نشریاتی ادارے سی بی ایس کی ایک رپورٹ یا مبینہ مواد کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف دعوے سامنے آئے ہیں، جن میں ایران کے طیاروں کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق معلومات کو متنازع قرار دیا جا رہا ہے۔
ان دعوؤں میں بعض حلقوں کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مختلف بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورکس اور کاروباری اداروں کے درمیان مبینہ تعلقات کو اس رپورٹنگ سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم ان الزامات کے حق میں کوئی باضابطہ یا تصدیق شدہ ثبوت سامنے نہیں آئے۔ماہرین ابلاغیات کے مطابق اس نوعیت کی معلومات اکثر سوشل میڈیا اور غیر مصدقہ ذرائع سے پھیلتی ہیں، جنہیں تصدیق کے بغیر حتمی رائے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوتا۔پاکستان یا متعلقہ اداروں کی جانب سے بھی اس حوالے سے کسی سرکاری سطح پر کوئی تصدیق یا بیان سامنے نہیں آیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے حساس معاملات میں معلومات کی تصدیق اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ انتہائی ضروری ہے تاکہ غلط فہمی یا پروپیگنڈا سے بچا جا سکے۔