حماس نے غزہ کی انتظامیہ ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کا اعلان، رفح بارڈر کھولنے پر زور

حماس نے غزہ کی انتظامیہ ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کا اعلان، رفح بارڈر کھولنے پر زور

دیر البلح: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم ساتھ ہی رفح سرحدی گزرگاہ کو آئندہ چند دنوں میں مکمل طور پر کھولنے پر زور دیا ہے۔

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے تمام انتظامات مکمل ہو چکے ہیں۔فائلیں تیار ہیں اور مختلف شعبوں میں اختیارات کی منتقلی کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں۔غزہ کی مکمل سول انتظامیہ 15 رکنی نیشنل کمیٹی فار ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG) کے سپرد کی جائے گی، جو امریکی سرپرستی میں جنگ بندی معاہدے کے تحت کام کرے گی۔کمیٹی کی سربراہی سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر نگرانی ایک اعلیٰ نگران بورڈ کرے گا، اور کمیٹی کے سربراہ، فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیر علی شعث، رفح بارڈر کھلتے ہی غزہ میں داخل ہوں گے۔

حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ رفح گزرگاہ دونوں سمتوں میں مکمل آزادی کے ساتھ کھولی جائے اور اس میں اسرائیلی رکاوٹیں نہ ہوں۔واضح رہے کہ رفح بارڈر مئی 2024 سے بند ہے، سوائے 2025 کے اوائل میں محدود مدت کے لیے کھولے جانے کے۔ حماس نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے لیے تیار ہے اور دوسرے مرحلے کے تمام نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہے۔