کاشف بٹ
پنجاب کی سرزمین نے بڑے بڑے رہنما دیکھے، مگر جذبہ، جرات، نفاست اور انتظامی گرفت—یہ چاروں اوصاف ایک ساتھ کسی لیڈر میں کم ہی ملے۔ اور جب ملے… تو اس کا نام تھا:مریم نواز۔یہ صرف وزیراعلی نہیں،یہ پنجاب کی رفتار ہیں،یہ بیٹی کا وقار ہیں،یہ وہ امید ہیں جو مایوسی کے بادل چیر کر آسمان پر جگمگاتی ہے۔پنجاب میں تربیت یافتہ ہنگامہ… جسے قیادت کہتے ہیںآج لاہور ہو یا راولپنڈی، فیصل آباد ہو یا ملتان—ایک نئی روایت قائم ہو رہی ہے:کسی کو معلوم نہیں ہوتا اور مریم نواز اچانک ہسپتال پہنچ جاتی ہیں۔کوئی نوٹس نہیں، کوئی اطلاع نہیں—صرف ایک سوال:‘‘عوام کو سہولت ملی یا نہیں؟’’پنجاب میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ حکمران فیلڈ میں ہیں اور فائلیں ان کے پیچھے بھاگ رہی ہیں۔صاف گلیاں… روشن پنجاب… اور بے رحم احتساب ہر شعبے میں ایک نئی روح دوڑتی محسوس ہوتی ہے:گلیاں دھل رہی ہیں،سڑکیں سنور رہی ہیں،قبضہ مافیا کی کمر ٹوٹ رہی ہے،ٹرانسپورٹ بہتر ہو رہی ہے،مہنگائی کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ،
ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی حاضری یقینی،اور پولیس ریفارمز نئے موڑ پر۔مریم نواز کا فارمولہ سیدھا ہے:‘‘پنجاب کو بدلے بغیر آرام نہیں کرنا… اور جو کام نہیں کرے گا وہ گھر جائے گا!’’یہ وہ لہجہ ہے جو لیڈرشپ کی پہچان ہے۔عوامی ریلیف — کاغذوں کی نہیں حقیقت کی سیاست پہلی بار ’’اعلانات‘‘ کم اور ’’کام‘‘ زیادہ نظر آ رہا ہے۔مہنگائی کنٹرول مہم، وومن سیفٹی پراجیکٹس، یوتھ سکل پروگرامز،سرکاری فیسلیٹیز میں اپ گریڈیشن، ٹریفک مینجمنٹ میں بہتری—یہ سب وہ کام ہیں جو عوام کے روزمرہ کو چھو رہے ہیں۔کوئی اگر کہے کہ پہلی خاتون وزیراعلی ہونا اعزاز ہے—تو درست ہے!مگر اصل اعزاز یہ ہے کہ اس نے ثابت کر دیا:کرسی نہیں کام بڑی چیز ہے۔"پنجاب کی بیٹی، پنجاب کی ترجمانمریم نواز کا اندازِ حکومت نرم بھی ہے اور سخت بھی۔ایک طرف ایک ماں کی طرح عوام کو سہولت دینا چاہتی ہیں،دوسری طرف انتظامیہ کی گردن پر ہاتھ رکھ کر پوچھتی ہیں:‘‘کیا کام مکمل ہوا یا نہیں؟’’یہی توازن پنجاب کے نظام میں پہلی بار نظر آ رہا ہے۔
نئے پنجاب کا اعلان جب شہریوں کو ریلیف ملتا ہے،جب اداروں میں شفافیت آتی ہے،جب سڑکوں پر تبدیلی نظر آتی ہے،تو لوگ دل سے کہتے ہیں:"پنجاب جاگ گیا ہے… کیونکہ اس کی بیٹی جاگ رہی ہے!"پنجاب کی تاریخ مضبوط ہے،مگر یہ دور…یہ باب…یہ صفحہ یقینی طور پر سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔