پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا عوام خدمت میں اہم کردار

محمد ندیم بھٹی 
پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاھور صحت کے نظام کا ایک معتبر ستون ھے جس پر پنجاب اور پورے پاکستان کے لاکھوں دل کے مریضوں کی امیدیں وابستہ ہیں۔ رواں سال اس ادارے نے عام عوام کے لیے جو سہولیات بہتر بنائی ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر وڑن درست ھو، قیادت مخلص ھو اور نیت عوامی خدمت کی ھو تو سرکاری اسپتال بھی دنیا کے معیاری اداروں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ یہ ادارہ صرف علاج فراہم نہیں کرتا بلکہ مریض کی عزتِ نفس، رہنمائی اور سہولت کو بھی اولین ترجیح دیتا ھے۔ عوام یہاں آتے ہیں تو علاج کے ساتھ اعتماد اور امید بھی لے کر جاتے ہیں، اور یہی عوامی اعتماد اس ادارے کی سب سے بڑی کامیابی ھے۔ پاکستان میں دل کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ھے۔ شوگر، بلڈ پریشر، ذہنی دباؤ، غیر متوازن خوراک اور غیر صحت مند طرزِ زندگی نوجوانوں کو بھی دل کے امراض کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ایسے میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی تھی۔ خوش آئند بات یہ ھے کہ اس ادارے نے اس چیلنج کو سنجیدگی سے لیا اور رواں سال عوامی سہولیات، علاج کے نظام میں بہتری، جدید مشینری کے اضافے اور شفاف انتظامی نظام کے لیے عملی اقدامات کیے۔
اس  کے نمایاں پورے ترقیاتی سفر میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال محی الدین کا کردار انتہائی اہم رھا۔ انہوں نے محض دفتر میں بیٹھ کر فیصلے نہیں کیے بلکہ عملی طور پر ہسپتال کے نظام میں جا کر بہتری لائی۔ ان کی انتھک محنت، بہترین انتظامی حکمت عملی اور مریض کے مفاد کو اولین ترجیح دینے کے عزم نے ہسپتال کی کارکردگی کو ایک نئی جہت دی۔ ان کی نگرانی میں ایمرجنسی سروسز زیادہ فعال ہوئیں، دل کے بڑے آپریشنز بہتر انداز میں ہوئے، انجیوگرافی اور انجیو پلاسٹی کے نظام میں بہتری آئی اور مریضوں کے لیے رہنمائی اور سہولت کا نظام مؤثر ھوا۔ بلال محیوالدین نے ٹیم ورک کو مضبوط کیا، عملے میں ذمہ داری کا احساس پیدا کیا اور مریض کو یقین دلایا کہ یہاں اس کا علاج اعلیٰ معیار کے مطابق ھو رہا ھے۔ ان کی محنت کا سب سے بڑا نتیجہ مریضوں کی آسانی اور علاج کے معیار میں واضح بہتری کی صورت میں سامنے آیا۔
پنجاب کی چیف منسٹر مریم نواز شریف کا وژن بھی اس ادارے کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کرتا ھے۔ انہوں نے صحت کے شعبے کو اپنی اولین ترجیح بنایا، دل کے مریضوں کے لیے خصوصی اقدامات کیے، اسپتالوں کی حالت بہتر کرنے کے لیے بجٹ اور وسائل فراہم کیے اور شہریوں کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی۔ یہی وڑن تھا جس نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں نئی روح پھونکی اور ادارے کو عوامی اعتماد کا مرکز بنایا۔ ان کے وڑن کی بنیاد پر ادارے میں جدید ترین دل کے آلات نصب کیے گئے، جدید آئی سی یو یونٹس کا قیام عمل میں آیا اور مریضوں کے لیے مختلف خصوصی سروسز کو قابلِ رسائی بنایا گیا، جن میں دل کے علاج کے لیے مختلف منصوبہ بندی اور خصوصی کیئر پیکجز شامل ہیں، تاکہ ہر مریض بلا تفریق مالی حیثیت کے بہترین علاج حاصل کر سکے۔
مریضوں کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات رواں سال میں نمایاں طور پر بڑھ گئیں۔ مریضوں کے انتظار کے وقت میں کمی، ایمرجنسی میں فوری توجہ، دل کے بڑے آپریشنز میں بہتری، انجیوگرافی اور انجیو پلاسٹی کی جدید سہولتیں، اور مریضوں کی رہنمائی کے نظام کو مؤثر بنانا وہ 
اقدامات ہیں جنہوں نے اس ادارے کو عوامی اعتماد کا مرکز بنایا۔ خاص طور پر غریب اور متوسط طبقے کے مریض جن کے پاس نجی اسپتالوں کے بھاری اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہیں ھے، ان کے لیے یہ ادارہ امید کی کرن ثابت ھوا۔ یہاں ایسے مریض بھی آتے ہیں جنہیں پہلے دل کے سنگین مسائل کے باعث دوسرے اسپتالوں میں معیاری علاج نہیں ملا، مگر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ان کا علاج کامیابی سے ھوا اور ان کے خاندانوں نے ادارے اور قیادت کی تعریف کی۔
یہ ادارہ آج محض ایک ہسپتال نہیں بلکہ ایک مثال بن چکا ھے کہ پاکستان میں سرکاری ادارے بھی عوام کی خدمت میں مثالی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہاں آنے والے مریض علاج کے ساتھ ساتھ اطمینان، اعتماد اور دعائیں بھی حاصل کرتے ہیں۔ یہی عوامی اعتماد اور دعائیں اس ادارے کے لیے سب سے بڑی کامیابی ہیں۔ ادارے میں مریضوں کی سہولت کے لیے مختلف کاؤنسلنگ سیشنز، ڈائریکٹ فون لائنز، اور رہنمائی ڈیسک قائم کیے گئے تاکہ مریض اور ان کے اہلِ خانہ کسی بھی سوال یا پریشانی کے لیے براہِ راست رابطہ کر سکیں۔
مستقبل کے لیے ضروری ھے کہ ترقیاتی سلسلہ مستقل پالیسی میں شامل کیا جائے۔ حکومت کی سرپرستی برقرار رھے، وسائل کی فراہمی میں کمی نہ آئے اور بلال محیوالدین جیسے مخلص اور محنتی افسران کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے تاکہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی مزید مضبوط، جدید اور عوامی اعتماد کا مرکز بنتا رھے۔ ادارے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، دل کے مختلف آپریشنز کے لیے جدید آلات اور مریض کی فوری جانچ کی سہولتیں اس بات کی ضمانت ہیں کہ آنے والے سالوں میں بھی یہ ادارہ عوام کے لیے امید کی کرن برقرار رکھے گا۔ یہ ادارہ صرف ایک ہسپتال کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ عوام کی امید، حکومت کی صحت دوست پالیسیوں اور مضبوط قیادت کی کامیابی کی علامت ھ?ے۔ دعا یہی ھ?ے کہ یہ ترقی کا سفر جاری رھے، ادارے کی خدمات بڑھتی رہیں اور آنے والی نسلیں بھی اسی معیار کی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی عوام کی خدمت، قیادت کے وڑن اور انتظامیہ کی محنت کی روشن مثال بنتا رھے۔