خون کا عطیہ، انسانیت کی خدمت کا بہترین ذریعہ

 محمد راشد تبسم
 ہر سال 14 جون کو عالمی یوم عطیہ خون منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ان لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جوبلا معاوضہ خون دے کر دوسروں کی جان بچاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق محفوظ خون کی دستیابی ہر ملک کے صحت کے نظام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ 
خون انسانی جسم کی بنیادی ضرورت ہے۔ حادثات، بڑے آپریشنز، کینسر کے علاج، تھیلیسیمیا، خون کی مختلف بیماریوں اور زچگی کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیوں میں خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ بعض اوقات مریض کی جان کا انحصار ہی بروقت خون ملنے پر ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک شخص کے خون کا ایک عطیہ تین مختلف مریضوں کی جان بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان کو سالانہ پانچ ملین سے زیادہ خون کے عطیات درکار ہوتے ہیں جبکہ 2030 تک یہ ضرورت 5.6 ملین تک پہنچ سکتی ہے۔ لیکن اس وقت پاکستان میں سالانہ تقریباً 2.3 ملین خون کے عطیات ہی جمع ہو پاتے ہیں۔ یوں ملک میں خون کی طلب اور دستیابی کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مریضوں اور ان کے خاندانوں کو خون کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پاکستان میں ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ خون کا زیادہ تر انتظام مستقل رضاکارانہ عطیہ دہندگان کے ذریعے نہیں بلکہ مریضوں کے رشتہ داروں اور دوستوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔دستیاب اعدادوشمار کے مطابق سالانہ 2.3 ملین خون کے عطیات میں سے تقریباً 1.9 ملین خاندان یا متبادل عطیہ دہندگان سے حاصل ہوتے ہیں جبکہ رضاکارانہ اور بلا معاوضہ عطیات کا تناسب صرف 18 فیصد ہے۔اس وجہ سے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو اکثر خون کے حصول کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
خون کی فراہمی کے نظام کو کئی چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔ کئی دیہی علاقوں میں بلڈ بینکوں کی کمی ہے۔ کئی جگہوں پر خون کی سکریننگ اور محفوظ کرنے کے وسائل بھی محدود ہیں۔ اس کے علاوہ عوام میں آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے صحت مند افراد خون عطیہ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر خون کی کمی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔
 اسلام انسانی جان کے تحفظ کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ قرآن مجید کی سورہ المائدہ کی آیت 32 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔‘‘ یہ آیت ہمیں دوسروں کی مدد اور خدمت خلق کا درس دیتی ہے۔خون کا عطیہ اسی اسلامی تعلیم کی عملی شکل ہے کیونکہ ایک صحت مند شخص کا چند منٹ کا عمل کسی بیمار انسان کے لیے نئی زندگی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے خون عطیہ کرنا محض طبی ضرورت نہیں بلکہ ایثار، ہمدردی اور انسان دوستی کا عملی اظہار بھی ہے۔عطیہ دینے والا کسی ذاتی مفاد یا مالی فائدے کے بغیر ایک اجنبی انسان کی مدد کرتا ہے۔ معاشرے اسی وقت مضبوط بنتے ہیں جب لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ 
خون کے ایک عطیے کی اہمیت اس بات سے بھی واضح ہوتی ہے کہ جدید طبی طریقوں کے مطابق ایک یونٹ خون کو مختلف اجزاء￿  میں تقسیم کرکے کئی مریضوں کے علاج میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سرخ خلیات، پلازما اور پلیٹ لیٹس مختلف بیماریوں میں الگ الگ ضرورت پوری کرتے ہیں۔ اس طرح ایک فرد کا عطیہ کئی خاندانوں کے لیے امید کی کرن بن سکتا ہے۔
پاکستان میں ایسے ہزاروں مریض موجود ہیں جن کی زندگی مسلسل خون کی فراہمی پر منحصر ہے۔ ان میں تھیلیسیمیا کے مریض سرفہرست ہیں۔ پاکستان میں تقریباً ایک لاکھ تھیلیسیمیا کے مریض موجود ہیں جبکہ ہر سال پانچ ہزار سے نو ہزار بچے اس بیماری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ ایک تھیلیسیمیا کے بچے کے لیے خون کا ایک عطیہ محض طبی ضرورت نہیں بلکہ زندگی کی امید ہوتا ہے۔ ایسے ہزاروں خاندان ہر ماہ خون کے عطیات کے منتظر رہتے ہیں تاکہ ان کے بچوں کا علاج جاری رہ سکے۔
اسی طرح کینسر کے مریضوں، ٹریفک حادثات، قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی حالات میں بھی خون فوری طور پر درکار ہوتا ہے۔ زچگی کے دوران زیادہ خون بہہ جانے کی صورت میں بھی بروقت خون کا حصول ماں کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بروقت خون کی عدم دستیابی نہ صرف مریضوں بلکہ ان کے خاندانوں کے لیے بھی شدید مشکلات کا باعث بنتی ہے، جس کے باعث رضاکارانہ خون عطیہ کرنے والوں کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں خون عطیہ کرنے سے متعلق کئی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ بعض افراد سمجھتے ہیں کہ اس سے کمزوری یا مستقل صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جبکہ طبی ماہرین کے مطابق 18 سے 60 سال تک کے صحت مند اور کم از کم 50 کلوگرام وزن رکھنے والے افراد خون عطیہ کر سکتے ہیں۔ ہر بار خون دینے کے بعد کم از کم 8 ہفتے (56 دن) کا وقفہ ضروری ہے۔ مرد عموماً ہر 3 ماہ اور خواتین ہر 4 ماہ بعد خون عطیہ کر سکتی ہیں۔ خون عطیہ کرنے سے قبل مختصر طبی معائنہ کیا جاتا ہے تاکہ عطیہ دہندہ اور مریض دونوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ انسانی جسم چند دنوں میں خون کے ضائع ہونے والے حصے کی تلافی کر دیتا ہے جبکہ استعمال شدہ آلات صرف ایک بار استعمال کیے جاتے ہیں، جس سے بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔
خون کا عطیہ صرف ضرورت مند مریضوں کی زندگی بچانے کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ معاشرے میں ہمدردی، ایثار اور باہمی تعاون کے جذبے کو بھی فروغ دیتا ہے۔ ایک صحت مند شخص کے چند منٹ کسی بیمار انسان اور اس کے خاندان کے لیے امید اور حوصلے کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہی احساس ذمہ داری رضاکارانہ خون عطیہ کرنے کے عمل کو انسانی خدمت کی ایک مؤثر شکل بناتا ہے اور معاشرتی یکجہتی کو مضبوط کرتا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک نے مستقل رضاکارانہ خون عطیہ دہندگان کے مضبوط نظام قائم کرکے خون کی قلت کے مسئلے پر بڑی حد تک قابو پایا ہے۔ پاکستان میں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو صرف ہنگامی حالات میں نہیں بلکہ معمول کے مطابق خون عطیہ کرنے کی ترغیب دی جائے۔ اگر ہر صحت مند شہری سال میں ایک یا دو مرتبہ خون عطیہ کرے تو ہزاروں مریضوں کی زندگیاں محفوظ بنائی جا سکتی ہیں اور ہسپتالوں پر دباؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال میں پاکستانی نوجوانوں کا کردار بہت اہم ہے۔ اگر نوجوان باقاعدگی سے خون عطیہ کرنے کی عادت اپنالیں تو ملک میں خون کی کمی کا مسئلہ کافی حد تک حل ہو سکتا ہے۔ کالجوں، یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں بلڈ ڈونیشن کیمپ اور آگاہی پروگراموں کے انعقاد 
سے خون عطیہ کرنے کے رجحان میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ فلاحی تنظیموں، طبی اداروں اور حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ رضاکارانہ بلڈ ڈونرز کے مؤثر نیٹ ورک قائم کیے جائیں، جدید بلڈ بینکوں کی تعداد بڑھائی جائے اور عوامی آگاہی مہمات چلائی جائیں۔ خون کی فراہمی صرف ہسپتالوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
درحقیقت پاکستان میں خون کی کمی کا مسئلہ صرف طبی نہیں بلکہ سماجی چیلنج بھی ہے۔ تھیلیسیمیا، کینسر، حادثات اور زچگی کے دوران ہزاروں مریض بروقت خون کے منتظر ہوتے ہیں۔ اگر نوجوان اور صحت مند افراد باقاعدگی سے رضاکارانہ خون عطیہ کرنے کی عادت اپنالیں تو اس مسئلے پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ خون کا عطیہ چند منٹ کا عمل ہے، مگر اس کے اثرات کسی انسان کی پوری زندگی بدل سکتے ہیں۔ یہی عالمی یوم عطیہ خون کا اصل پیغام ہے۔