محمد ندیم بھٹی
پاکستان آبادی کے لحاظ سے ایک بڑا ملک بنتا جارھا ھے،بڑی آبادی بڑے مسائل اور اس کے ساتھ ساتھ کسی بھی معاشرے میں امن و امان کا قیام ایک بنیادی ضرورت ھے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے پولیس فورس کلیدی کردار ادا کرتی ھے۔ پولیس افسران میں چند ایسے افراد ہوتے ہیں جو نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو خلوص، دیانت داری اور فرض شناسی سے ادا کرتے ہیں، بلکہ عوامی مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھ کر حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لاہور پولیس کے ایسے ہی فرض شناس، باصلاحیت اور عوام خدمت سے بھرپور افسر کا نام ھے۔ ڈاکٹر غیور احمد خان، جو اس وقت ایس پی صدر ڈویڑن کی حیثیت سے خدمات انجام دے رھے ہیں۔ ان کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک باوقار، پْرعزم اور معاملہ فہم پولیس افسر کا تصور اْبھر آتا ھے۔ انہوں نے اپنی تعلیمی قابلیت، مہارت اور قائدانہ صلاحیتوں سے پولیس فورس میں منفرد مقام حاصل کیا ھے۔ ان کی قیادت میں صدر ڈویڑن نہ صرف جرائم کی بیخ کنی کے لیے نمایاں اقدامات کر رہا ھے بلکہ عوام کو تحفظ، انصاف اور سہولت فراہم کرنے کے سلسلے میں بھی کئی اہم پیش رفت ہوئی ہیں۔
ڈاکٹر غیور احمد خان کا شمار ان پولیس افسران میں ہوتا ھے جنہوں نے صرف وردی کی طاقت پر انحصار نہیں کیا بلکہ علم کو اپنا ہتھیار بنایا۔ ان کے تعلیمی پس منظر نے انہیں ایک منفرد سوچ، وڑن اور حکمتِ عملی عطا کی ھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر مسئلے کو صرف قانون کی آنکھ سے نہیں دیکھتے بلکہ معاشرتی تناظر میں بھی پرکھتے ہیں، جس سے ان کے فیصلے زیادہ مؤثر اور دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔
پولیس جیسے سخت اور دباؤ والے شعبے میں علمی پس منظر رکھنے والے افراد کی موجودگی کسی نعمت سے کم نہیں۔ ڈاکٹر غیور احمد خان نے اپنے عملی تجربے اور علمی قابلیت کو یکجا کر کے ایک نئی طرز کی قیادت متعارف کروائی ھے۔
صدر ڈویڑن، جس میں لاھور کے کئی حساس اور گنجان آباد علاقے شامل ہیں، ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ھے۔ یہاں مختلف نوعیت کے جرائم، ٹریفک کے مسائل، زمینوں پر قبضہ، منشیات فروشی اور دیگر معاشرتی برائیاں موجود رہی ہیں۔ ایسے علاقے میں پولیسنگ صرف روایتی طریقوں سے ممکن نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر غیور احمد خان نے اس چیلنج کو قبول کیا اور صدر ڈویڑن میں ایک عوام دوست، فعال اور مستعد پولیسنگ کا نظام متعارف کروایا۔
انہوں نے تھانوں کی سطح پر عوامی شکایات کے ازالے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کیں، اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی بھی شہری بغیر کسی سفارش یا دباؤ کے اپنی بات تھانے میں سنا سکے۔ پولیس افسران کو باقاعدہ تربیت دی گئی کہ وہ عوام سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور شکایات کا فوری اور مؤثر ازالہ کریں۔ ان کے اس رویے نے نہ صرف عوام کا پولیس پر اعتماد بحال کیا بلکہ کئی بگڑتے معاملات کو تھانے کی سطح پر ہی حل کر دیا گیا۔
ڈاکٹر غیور احمد خان نے صدر ڈویڑن کو جرائم سے پاک کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی ترتیب دی۔ علاقے کے جرائم پیشہ عناصر کی مکمل فہرست مرتب کی گئی، حساس مقامات کی جیو فینسنگ کی گئی، اور خفیہ نگرانی کے نظام کو فعال بنایا گیا۔ منشیات فروشوں، قبضہ مافیا اور گینگسٹرز کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیے گئے۔
ان کی قیادت میں پولیس نے مختلف کامیابیاں حاصل کیں، جن میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی گرفتاری، اغوا برائے تاوان کے کیسز کی بروقت تفتیش اور خطرناک اشتہاری مجرموں کی گرفتاری شامل ھے۔ خاص طور پر، انہوں نے خواتین اور بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی، جس سے صدر ڈویڑن میں خواتین کی شکایات میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔
تھانوں کی بہتری اور اصلاحات کے بارے میں بات کریں تو ڈاکٹر غیور احمد خان کا ایک نمایاں کارنامہ صدر ڈویڑن کے تھانوں میں بہتری کے اقدامات ہیں۔ انہوں نے تھانوں میں صفائی ستھرائی، ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن، سی سی ٹی وی نگرانی، خواتین ڈیسک کی فعالیت اور فرنٹ ڈیسک پر تربیت یافتہ عملے کی تعیناتی کو یقینی بنایا۔ ان تمام اقدامات کا مقصد عوام کو ایک مہذب، محفوظ اور پیشہ ورانہ ماحول فراہم کرنا تھا۔
انہوں نے انسپیکشنز کے ذریعے تھانوں کی کارکردگی کا ازسرنو جائزہ لیا اور غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائیاں کیں۔ ایسے افسران اور اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی گئی جنہوں نے عوامی خدمت کو شعار بنایا۔
صدر ڈویڑن میں جرائم کی روک تھام کے لیے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا بھی ڈاکٹر غیور احمد خان کی پالیسی کا حصہ رہا ھے۔ انہوں نے مختلف علاقوں میں سپورٹس گالا، آگاہی سیمینارز، اور یوتھ میٹنگز کا انعقاد کیا تاکہ نوجوان نسل کو معاشرتی خدمت، قانون کی پاسداری اور حب الوطنی کی جانب راغب کیا جا سکے۔
ان اقدامات سے نہ صرف نوجوانوں میں پولیس کے بارے میں مثبت رائے پیدا ہوئی بلکہ انہیں ایک محفوظ مستقبل کی امید بھی ملی۔ڈاکٹر غیور احمد خان نے میڈیا کو ہمیشہ اپنا پارٹنر سمجھا ھے۔ انہوں نے کرائم رپورٹرز اور صحافیوں کے ساتھ ایک ورکنگ ریلیشن شپ قائم کی، جس میں نہ صرف جرائم کی سچائی سامنے آئی بلکہ عوام کو بھی بروقت اور درست معلومات فراہم ہوئیں۔ انہوں نے میڈیا کے کردار کو سراہا اور اس کی رہنمائی کو اپنی حکمت عملی کا حصہ بنایا۔ایس پی صدر ڈویڑن ڈاکٹر غیور احمد خان کی خدمات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اگر نیت نیک ہو، وڑن واضح ہو، اور قیادت دیانت دار ہو، تو پولیس فورس نہ صرف جرائم کے خلاف کامیاب ہو سکتی ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال کیا جا سکتا ھے۔ ان کی شخصیت میں قیادت، تحمل، علم، فہم، اور فرض شناسی کا حسین امتزاج نظر آتا ھے۔
پاکستان جیسے ملک میں، جہاں پولیس کے کردار پر اکثر سوالات اٹھائے جاتے ہیں، ایسے افسران امید کی کرن اور مثالی رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ ڈاکٹر غیور احمد خان جیسے پولیس افسران ہی حقیقی معنوں میں معاشرتی تبدیلی کے نقیب ہیں، اور قوم کو ان پر فخر ھے۔