محمد ندیم بھٹی
پنجاب کی انتظامی تاریخ میں بعض ادارے ایسے ھیں جو بظاہر خاموش نظر آتے ھیں مگر درحقیقت ریاستی نظم و نسق کی بنیاد انہی پر استوار ھوتی ھے۔ بورڈ آف ریونیو انہی اداروں میں شامل ھے، جو زمین، محصولات، ریکارڈ، بندوبست اراضی اور دیہی و شہری نظم کا مرکز ھے۔ اس ادارے کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ھو جاتی ھے کہ پنجاب کی معیشت، زراعت، شہری توسیع اور سماجی استحکام براہِ راست زمین کے درست، شفاف اور منصفانہ نظام سے جڑے ھوئے ھیں۔ ایسے میں بورڈ آف ریونیو کی قیادت کرنے والے عہدے محض انتظامی منصب نہیں بلکہ عوامی اعتماد کے امین سمجھے جاتے ھیں۔
موجودہ دور میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید اور سیکرٹری حافظ احمد طارق کی قیادت میں یہ ادارہ جس سمت میں آگے بڑھ رھا ھے، وہ پنجاب میں بہتر گورننس کی ایک واضح مثال بنتی جا رھی ھے۔ ان دونوں عہدوں کا کردار ایک دوسرے کی تکمیل ھے، جہاں ایک طرف پالیسی سازی، قانون کی تشریح اور مجموعی حکمت عملی تشکیل دی جاتی ھے، وہیں دوسری طرف فیلڈ میں اس پالیسی کا عملی نفاذ، نگرانی اور عوامی مسائل کا براہِ راست حل ممکن بنایا جاتا ھے۔
چیف منسٹر پنجاب مریم نواز نے اقتدار سنبھالتے ھی جس نظریہ خدمت کو اپنی حکومت کی پہچان بنایا، اس کا مرکزی نکتہ عام شہری کو ریاستی نظام میں عزت، سہولت اور اعتماد دینا ھے۔ ان کا یہ مؤقف بالکل واضح ھے کہ حکومت کا مقصد حکم چلانا نہیں بلکہ عوام کی زندگی آسان بنانا ھے۔ یہی سوچ آج پنجاب کے مختلف محکموں میں عملی شکل اختیار کر رھی ھے، اور بورڈ آف ریونیو اس کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آ رھا ھے۔
زمین کسی بھی معاشرے میں سب سے حساس اور قیمتی اثاثہ ھوتی ھے۔ پنجاب جیسے زرعی اور گنجان آباد صوبے میں زمین صرف جائیداد نہیں بلکہ روزگار، شناخت اور سماجی تحفظ کا ذریعہ بھی ھے۔ اگر زمین کا ریکارڈ مشکوک ھو، فیصلے تاخیر کا شکار ھوں یا نظام میں شفافیت نہ ھو تو سب سے پہلے عام آدمی متاثر ھوتا ھے۔ یہی وہ حقیقت ھے جسے موجودہ قیادت نے بخوبی سمجھا ھ?ے، اور اسی بنیاد پر ریونیو نظام کو عوام دوست بنانے کی سنجیدہ کوششیں کی جا رھی ھیں۔
سیکریٹری بورڈ آف ریونیو کی ذمہ داری ھے کہ وہ اس پورے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرے، قوانین کو سادہ بنائے اور ایسے انتظامی فیصلے کرے جن سے شہری کو فائدہ پہنچے۔ ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ، آن لائن فرد، کمپیوٹرائزڈ انتقالات اور سروس سینٹرز کا فروغ اسی وڑن کا حصہ ھے۔ یہ اقدامات محض تکنیکی تبدیلیاں نہیں بلکہ عام شہری کیلئے ایک نفسیاتی آسودگی بھی ھیں، جس سے وہ خود کو ریاست کے قریب محسوس کرتا ھے۔
سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو فیلڈ میں ریاست کی عملی نمائندگی کرتا ھے۔ تحصیل اور ضلع کی سطح پر ریونیو افسران کی کارکردگی، عوامی شکایات کا فوری ازالہ، سرکاری زمینوں کا تحفظ اور غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائیاں اسی عہدے کی براہِ راست نگرانی میں آتی ھیں۔ جب فیلڈ افسران کو یہ احساس ھو کہ ان کی کارکردگی دیکھی جا رھی ھے اور شہری کو ترجیح دی جا رھی ھے تو پورا نظام خود بخود بہتر ھونے لگتا ھے۔
اس ضمن میں ثمن عباس، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پاک پتن کی کارکردگی بھی قابلِ تعریف ھے۔ انہوں نے ضلع میں عوامی شکایات کے تیز اور مؤثر ازالے، زمین کے معاملات میں شفافیت، اور سرکاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کے ذریعے شہریوں کا اعتماد حاصل کیا ھے۔ ان کی محنت اور عوامی خدمت کا جذبہ ایک روشن مثال ھے کہ کس طرح مقامی انتظامیہ شہریوں کی سہولت اور ریاستی نظام کے توازن کو برقرار رکھ سکتی ھ?ے۔
چیف منسٹر مریم نواز بارہا اس بات پر زور دے چکی ھیں کہ ایک مہذب ریاست میں انصاف کا آغاز نچلی سطح سے ھونا چاہئے۔ ان کا یہ جملہ کہ پٹواری کے دفتر سے نکلنے والا شہری مطمئن ھونا چاہئے، دراصل پورے ریونیو نظام کیلئے ایک رہنما اصول بن چکا ھے۔ بورڈ آف ریونیو میں جاری اصلاحات اسی سوچ کا عملی اظہار ھیں، جہاں تربیت، نگرانی اور احتساب کے ذریعے رویوں کو بہتر بنانے پر توجہ دی جا رھی ھے۔
ماضی میں ریونیو نظام کو خوف، بداعتمادی اور شکایات کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ عام آدمی کیلئے پٹواری، تحصیلدار اور ریونیو کلرک کا سامنا ایک آزمائش بن جاتا تھا۔ مگر اب بتدریج یہ تاثر بدل رھا ھے۔ شفاف ریکارڈ، واضح طریقہ کار اور بروقت فیصلوں نے شہری کے اعتماد کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ھے۔ یہ تبدیلی کسی ایک دن میں نہیں آئی بلکہ مسلسل محنت، نگرانی اور درست سمت کے نتیجے میں ممکن ھوئی ھے۔
پنجاب میں شہری آبادی کے تیز رفتار پھیلاؤ نے زمین کے معاملات کو مزید حساس بنا دیا ھے۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز، کمرشلائزیشن اور زرعی زمینوں کے تحفظ جیسے مسائل آج کی حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج ھیں۔ بورڈ آف ریونیو کی دانشمندانہ پالیسی سازی اور سخت نگرانی نے غیر قانونی ہاؤسنگ منصوبوں کی حوصلہ شکنی اور سرکاری اراضی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ھے۔ یہ وہ فیصلے ھیں جو وقتی مقبولیت کے بجائے طویل المدتی عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر کئے جا رھے ھیں۔
امن و امان کے قیام میں بھی ریونیو نظام کی درستگی بنیادی حیثیت رکھتی ھے۔ زمینوں کے تنازعات اگر بروقت اور منصفانہ طور پر حل ھو جائیں تو بڑے جھگڑے جنم لینے سے پہلے ہی ختم ھو جاتے ھیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو بورڈ آف ریونیو کی مؤثر کارکردگی پولیس اور عدلیہ پر بوجھ کم کرنے کا ذریعہ بھی بنتی ھے، اور یہی ایک مضبوط ریاست کی علامت ھے۔
چیف منسٹر مریم نواز کا نظریہ خدمت دراصل اسی سوچ کا نام ھے کہ ریاست شہری کی محافظ ھو، اس کیلئے خوف کی علامت نہ بنے۔ جب شہری کو زمین کے معاملے میں انصاف ملتا ھے، عزت کے ساتھ سروس ملتی ھے اور شکایت پر فوری کارروائی ھوتی ھے تو وہ خود کو ریاست کا حصہ سمجھتا ھے۔ یہی وہ اعتماد ھے جو کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد بنتا ھے۔
آج پنجاب میں گورننس کی جو بہتری محسوس کی جا رھی ھے، وہ سیاسی قیادت اور انتظامی افسران کے درمیان ہم آہنگی کا نتیجہ ھے۔ مریم نواز سمت دیتی ھیں، وڑن فراہم کرتی ھیں، جبکہ بورڈ آف ریونیو جیسے ادارے اس وڑن کو عملی شکل دیتے ھیں۔ یہی وہ ماڈل ھے جس میں
سیاست اور بیوروکریسی ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں بلکہ عوامی خدمت کیلئے ایک صفحے پر نظر آتے ھیں۔
آخر میں یہ کہنا بالکل بجا ھو گا کہ بورڈ آف ریونیو میں جاری اصلاحات، شفافیت اور عوامی سہولت کا عمل اس بات کی دلیل ھے کہ اگر نیت درست ھو، قیادت مضبوط ھو اور وڑن واضح ھو تو سرکاری نظام بھی عوام کیلئے سہارا بن سکتا ھے۔ سیکریٹری اور سینئر ممبر کی قیادت، ثمن عباس کی محنت اور عوامی خدمت، اور چیف منسٹر مریم نواز کے نظریہ خدمت کے امتزاج سے پنجاب میں ریونیو گورننس ایک مثبت، باوقار اور عوام دوست سمت میں آگے بڑھ رھی ھے، جو آنے والے وقت میں صوبے کی پہچان بنے گی۔