پنجاب حکومت حقیقی خدمت ،سوشل سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ

محمد ندیم بھٹی
سوشل سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ پنجاب، بلاشبہ اْن چند سرکاری اداروں میں سے ھے جنھوں نے عوامی خدمت کا مفہوم بدل کر رکھ دیا ھے۔ وہ وقت گزر گیا جب محنت کش طبقہ اپنے مسائل کے حل کے لیے دفاتر کے چکر لگاتا تھا، آج سوشل سیکورٹی خود ان کے دروازے پر پہنچتی ھے۔ اس تبدیلی کا سہرا یقینی طور پر کمشنر محمد علی، میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر حمیرا بزدار، اور وزیراعلیٰ پنجاب کے وڑن، دیانت اور عوام دوستی کو جاتا ھے جنہوں نے محکمے کو نئی روح بخشی ھے۔
کمشنر محمد علی نے اپنی قیادت میں سوشل سیکورٹی کے پورے نظام کو فعال، جدید اور شفاف بنایا ھے۔ ان کا ماننا ھے  ریاست کی اصل طاقت اس کے محنت کشوں میں ھے، اور اگر ان کے مسائل حل نہ کیے جائیں تو ترقی کے خواب محض نعرے بن کر رہ جاتے ھیں۔ یہی سوچ لے کر انھوں نے سوشل سیکورٹی کے نیٹ ورک کو وسعت دی اور عوامی خدمات کے دائرے کو نہ صرف بڑھایا بلکہ مؤثر بنایا۔
ان کی قیادت میں شروع کیا گیا سوشل سیکورٹی راشن کارڈ پروگرام عوامی فلاح کے میدان میں ایک سنگِ میل ھے۔ ہزاروں محنت کش خاندانوں کو بنیادی اشیائے خورونوش کی فراہمی اس پروگرام کے ذریعے ممکن ہوئی۔ یہ صرف ایک فلاحی قدم نہیں بلکہ ایک احساسِ تحفظ ھ?ے، ایک اعترافِ محنت ھے کہ مزدور طبقہ ریاست کے لئے بوجھ نہیں، بلکہ ریڑھ کی ہڈی ھے۔
اسی وڑن کے تحت حکومتِ پنجاب نے اربوں روپے کی خطیر گرانٹ بھی فراہم کی تاکہ سوشل سیکورٹی کے فلاحی منصوبوں کو مزید وسعت دی جا سکے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی دلچسپی اور نگرانی نے محکمے کے کئی عرصے سے رکے ہوئے منصوبے مکمل کرائے۔ یہ گرانٹ عوام کے اعتماد کا سرمایہ ثابت ہوئی اور محکمے کے استحکام میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ھے۔
میڈیکل ایڈوائزر سوشل سیکورٹی  ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر حمیرا بزدار نے اس ساری عوامی خدمت کے سفر میں ایک مثالی کردار ادا کیا ھے۔ انھوں نے صحت کے میدان میں جو انقلابی اقدامات کیے، وہ قابلِ فخر ھے۔ ڈاکٹر حمیرا بزدار کی نگرانی میں سوشل سیکورٹی کے تمام اسپتالوں میں جدید طبی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ مریضوں کو مفت علاج، معیاری دوائیں، صاف ستھرا ماحول اور تربیت یافتہ عملہ میسر آیا۔
پنجاب کے مختلف شہروں میں قائم سوشل سیکورٹی اسپتال آج عوامی اعتماد کی علامت بن چکے ھیں۔ لاھور میں  نواز شریف ہسپتال، کوٹ لکھپت ہسپتال، نشتر کالونی ہسپتال، فیصل آباد سوشل سیکورٹی اسپتال، ملتان، گوجرانوالہ، راولپنڈی، سیالکوٹ اور شیخوپورہ کے ہیلتھ سینٹرز میں روزانہ ہزاروں مریض علاج کی سہولت حاصل کر رھے ھیں۔ ان اسپتالوں کو جدید مشینری سے آراستہ کیا گیا ھے، جبکہ عملے کی تربیت کے لیے خصوصی پروگرام بھی ترتیب دیے گئے ھیں۔
ان تمام اسپتالوں اور صحت مراکز میں ایک خاص بات یہ ھے کہ ایمرجنسی سروس ہر خاص و عام کے لیے بالکل مفت دستیاب ھے۔ خواہ کوئی مزدور ہو، راہگیر ھو یا عام شہری، اگر اسے فوری طبی امداد کی ضرورت ھے تو سوشل سیکورٹی اسپتال کے دروازے اس کے لیے ہر وقت کھلے ھیں۔ یہ وہ جذبہِ خدمت ھے جو محکمے کو دوسرے اداروں سے ممتاز بناتا ھے۔
لاھور کا سوشل سیکورٹی اسپتال کوٹ لکھپت اس حوالے سے ایک مثالی ادارہ بن چکا ھے۔ یہاں ایمرجنسی وارڈ 24 گھنٹے فعال رہتا ھے، جہاں نہ صرف زخمی محنت کش بلکہ عام شہری بھی بغیر کسی فیس کے فوری علاج حاصل کرا سکتے ھیں۔ اسپتال میں ایک جدید لیبارٹری، ایکسرے یونٹ، ڈینٹل سیکشن، اور فزیوتھراپی سینٹر بھی قائم کیا گیا ھے۔
اسی طرح فیصل آباد اور گوجرانوالہ کے سوشل سیکورٹی اسپتالوں میں بھی مفت ایمرجنسی سروس عوامی اعتماد کا مظہر بن چکی ھے۔ عملہ نہ صرف تربیت یافتہ ھے بلکہ انسانی ہمدردی کے جذبے سے سرشار بھی ھے۔ ڈاکٹر حمیرا بزدار کی ہدایت پر تمام اسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ عزت، احترام اور خلوص کا رویہ اپنانے کو ترجیح دی جا رھی ھے۔
یہاں ایک قابلِ ذکر پہلو یہ بھی ھے کہ محکمے نے خواتین اور بچوں کے علاج پر خاص توجہ دی ھے۔ خواتین کے لیے خصوصی کلینک، زچگی وارڈ اور ماں و بچے کے مراکز قائم کیے گئے ھیں تاکہ مزدور طبقے کی خواتین کو محفوظ ماحول میں علاج فراہم کیا جا سکے۔
کمشنر محمد علی نے خود متعدد اسپتالوں کے دورے کیے، اور ایک سی آئی پی کے نام سے کمشنر انسپکشن  پروگرام  کے تحت مریضوں سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے، اور بہت سی جگہوں پر موقع پر احکامات جاری کیے۔ یہی وہ طرزِ قیادت ھے جو عوام کے دلوں میں اعتماد پیدا کرتی ھے۔ ان کا کہنا ھے  "ادارہ تب کامیاب ہوتا ھے جب عوام کو احساس ھو کہ ان کے مسائل سنے جا رھے ھیں، اور ان پر عمل ھو رہا ھے۔"
حکومتِ پنجاب کی جانب سے فراہم کردہ اربوں روپے کی گرانٹ کے نتیجے میں سوشل سیکورٹی اسپتالوں میں نئی بلڈنگز، جدید آپریشن تھیٹرز، لیبارٹریز اور فری میڈیکل کیمپس کا قیام ممکن ھوا ھے۔ اب نہ صرف رجسٹرڈ مزدور بلکہ عام شہری بھی ان سہولیات سے استفادہ کر سکتے ھیں۔
یہ ادارہ صرف علاج و معالجہ تک محدود نہیں رہا بلکہ عوامی آگاہی کے لیے بھی سرگرم ھے۔ مختلف شہروں میں ہیلتھ ایجوکیشن کیمپ، بلڈ ڈونیشن کیمپس اور میڈیکل چیک اپ کیمپ لگائے جاتے ھیں تاکہ عوام میں صحت مند طرزِ زندگی کا شعور پیدا کیا جا سکے۔
 پنجاب سوشل سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ نے ٹیکنالوجی کو بھی عوامی خدمت کے لیے استعمال کیا ھے۔ اب مریضوں کے ریکارڈ، راشن کارڈ ڈیٹا، اور شکایات کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دیا گیا ھے۔ اس سے نہ صرف بدعنوانی میں کمی آئی ھے بلکہ سروس کی فراہمی میں شفافیت بھی بڑھی ھے۔
یہ تمام کامیابیاں کسی معجزے سے کم نہیں، اور ان کے پیچھے جو محنت، عزم اور نیت کارفرما ھے، وہ کمشنر محمد علی، ڈاکٹر حمیرا بزدار اور وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت کا نتیجہ ھے۔ ان تینوں نے مل کر سوشل سیکورٹی کو ایک ایسا ادارہ بنا دیا ھے جس پر عوام فخر کرتے ھیں۔
آج جب ایک مزدور کا بچہ اسپتال میں علاج کے بعد صحت یاب ھو کر گھر لوٹتا ھے، یا جب کسی زخمی شہری کو ایمرجنسی میں مفت علاج ملتا ھے، تو یہ صرف ایک علاج نہیں بلکہ ایک پیغام ھے — کہ ریاست اپنی عوام کے ساتھ کھڑی ھے۔
سوشل سیکورٹی کا یہ بدلتا ھوا چہرہ پاکستان کے فلاحی نظام کے لیے ایک مثال بن چکا ھے۔ اگر اسی جذبے کے ساتھ ادارہ ترقی کی راہ پر 
گامزن رہا تو وہ دن دور نہیں جب پورے ملک میں سوشل سیکورٹی جیسے عوامی ادارے حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست کے ستون ثابت ھوں گے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ھے  سوشل سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کے موجودہ نظامِ خدمت نے یہ ثابت کیا ھے  اگر قیادت ایماندار، نیت صاف اور وڑن واضح ھو تو کوئی ادارہ عوامی فلاح میں معجزہ کر سکتا ھے۔ کمشنر محمد علی، ڈاکٹر حمیرا بزدار اور وزیراعلیٰ پنجاب نے مل کر یہ معجزہ کر دکھایا ھے۔ آج یہ ادارہ عوامی خدمت، شفافیت اور انسان دوستی کا روشن استعارہ بن چکا ھے۔