چیمپئنز ٹرافی: پاکستانی حکومت کا ہائبرڈ ماڈل سے انکار، بھارت کو پاکستان آنا پڑے گا

چیمپئنز ٹرافی: پاکستانی حکومت کا ہائبرڈ ماڈل سے انکار، بھارت کو پاکستان آنا پڑے گا

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے دبئی میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے سی ای او جیف ایلا ڈائز اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم ترین مذاکرات کیے اور پاکستان کا ٹھوس مؤقف آئی سی سی حکام کے سامنے رکھا۔

آئی سی سی بورڈ میٹنگ میں پاکستان کا مؤقف: محسن نقوی نے جمعرات کو آئی سی سی سے دو ٹوک بات کی اور وکلاء سے مشاورت کے بعد قانونی مشورے بھی لیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت پاکستان نہ آنا چاہتا ہے تو حکومت کا خط دکھایا جائے جس میں پاکستان نہ جانے کی ٹھوس وجوہات ہوں، بصورت دیگر کوئی جواز قبول نہیں کیا جائے گا۔آج آئی سی سی بورڈ کی میٹنگ آن لائن ہو گی، جس میں محسن نقوی دبئی سے آن لائن شریک ہوں گے اور پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔ یہ میٹنگ پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 3 بجے شروع ہو گی۔ پی سی بی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی نے دبئی میں ہونے والی میٹنگ میں پاکستان کا مؤقف آئی سی سی حکام کے سامنے واضح کر دیا ہے۔

ہائی برڈ ماڈل کی مخالفت: پی سی بی چیئرمین نے آئی سی سی پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان حکومت نے ہائی برڈ ماڈل کی مخالفت کی ہے، اس لیے بھارت کو پاکستان آنا پڑے گا۔ اگر آئی سی سی کو بات آگے بڑھانی ہے تو وہ کرکٹ اور رکن ملکوں کے مفاد میں نئی تجویز لے کر آئے۔ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کے لیے ہائی برڈ ماڈل پر بات کرنا وقت کا ضیاع ہو گا اور یہ قابل قبول نہیں ہے۔

چیمپئنز ٹرافی کا مطالبہ: پی سی بی نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کے لیے ایک قابل قبول فارمولا بورڈ میٹنگ سے پہلے فراہم کیا جائے۔ پی سی بی نے واضح کیا کہ نیوٹرل وینیو پر بھارت کے ساتھ میچ کھیلنا پاکستان کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔ اگر آئی سی سی نیوٹرل وینیو پر بھارت کے ساتھ میچ کھیلنے کا فارمولا اپناتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پاکستان بھارت میں جا کر اگلے ایونٹس میں نہیں کھیلے گا۔

چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی اور مالی معاملات: ذرائع کے مطابق پاکستان کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کے حقوق کے بدلے 60 لاکھ ڈالرز ملیں گے، جبکہ انشورنس کمپنی کو تقریباً 12 سے 13 لاکھ ڈالرز پریمیئم کے طور پر ادا کرنے ہوں گے۔ اس طرح انشورنس کی رقم نکال کر تقریباً 60 لاکھ ڈالرز ملیں گے۔ پاکستان کو آئی سی سی کی آمدنی سے ہر سال 13 ملین ڈالر کی دو قسطیں جنوری اور جولائی میں ملتی ہیں۔پاکستان اور بھارت کے مالی تفاوت: ذرائع کے مطابق بھارت کو آئی سی سی کی آمدنی کا 38 فیصد یعنی 90 سے 95 ملین ڈالرز سالانہ ملتے ہیں، جو کہ پاکستان کے حصے سے کہیں زیادہ ہے۔

قذافی اسٹیڈیم کی تعمیر: دبئی روانگی سے قبل محسن نقوی نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کے دورے کے دوران میڈیا سے بات چیت کی اور کہا کہ چیمپئنز ٹرافی پاکستان میں ہی ہو گی اور آئی سی سی سے مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قذافی اسٹیڈیم کی تعمیر نو کا کام 10 اکتوبر کو شروع ہوا تھا اور اس کی گنجائش 35 سے 40 ہزار تک ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ راولپنڈی اسٹیڈیم کی رپورٹ پہلے مل جاتی تو کچھ بہتر ہوتا۔

محسن نقوی نے کہا کہ آئی سی سی اجلاس میں جو بھی فیصلہ ہوگا، اس پر حکومتی ہدایات کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ اگر آئی سی سی نے ہائی برڈ ماڈل کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالا تو پی سی بی حکومت سے اجازت طلب کرے گا، تاہم فی الحال پی سی بی کا ہائی برڈ ماڈل قبول کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

اختتام: پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کے سامنے اپنے مطالبات واضح کر دیے ہیں اور اپنے موقف کو مضبوطی سے پیش کیا ہے، خاص طور پر بھارت کے ساتھ میچوں کے معاملے پر۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے ایسی تجویز سامنے آئے جو پاکستان کے مفادات کے مطابق ہو۔