پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے درمیان ایک اہم معاہدہ ہوا ہے جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 2024 سے 2027 تک ہونے والے تمام آئی سی سی ایونٹس، جن میں چیمپیئنز ٹرافی 2025 بھی شامل ہے، ہائبرڈ ماڈل کے تحت کھیلیں جائیں گے۔
اس ماڈل کے تحت پاکستان اور بھارت کے میچز نیوٹرل وینیو پر کھیلے جائیں گے، اور پاکستان بھارت کا سفر کرنے سے گریز کرے گا۔
اہم نکات:
چیمپیئنز ٹرافی 2025:
پاکستان اور بھارت کے میچز نیوٹرل وینیو پر کھیلے جائیں گے۔اگر بھارتی ٹیم سیمی فائنل یا فائنل تک پہنچتی ہے، تو ان میچز کو متحدہ عرب امارات (دبئی) میں کھیلا جائے گا۔
اگر بھارتی ٹیم سیمی فائنل یا فائنل تک نہیں پہنچتی، تو چیمپیئنز ٹرافی کا تمام ایونٹ پاکستان میں منعقد کیا جائے گا۔
دوسرے آئی سی سی ایونٹس:
2025 ویمنز ون ڈے ورلڈکپ بھارت میں منعقد ہوگا، جس میں پاکستان اور بھارت کے میچ نیوٹرل وینیو پر ہوں گے۔بھارت اور سری لنکا میں شیڈول 2025 ٹی20 ورلڈکپ کے دوران بھی پاکستان اور بھارت کے میچ نیوٹرل مقام پر کھیلے جائیں گے۔ہائبرڈ ماڈل کے تحت یہ معاہدہ مستقبل میں پاکستان کو آئی سی سی 2028 کے ٹی20 ویمنز ورلڈکپ کی میزبانی دینے کی راہ بھی ہموار کرے گا۔
معاہدے کے فوائد:
اس معاہدے کے تحت پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو ایک سہ فریقی سیریز کے ذریعے مالی فوائد حاصل ہوں گے، جس کا مقصد چیمپیئنز ٹرافی اور پاک بھارت میچز سے حاصل ہونے والی گیٹ منی اور معاوضے کو پاکستان کے کرکٹ کے نظام میں انویسٹ کرنا ہے۔
پی سی بی کی پوزیشن:
پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے آئی سی سی کو یہ واضح پیغام دیا تھا کہ بھارت پاکستان میں ہونے والے ایونٹس سے انکار نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک کے کرکٹ تعلقات برابری کی بنیاد پر قائم ہوں گے، تو پاکستان اس فیصلے کو تسلیم کرے گا۔
بھارتی ٹیم کا شیڈول:
بھارت اپنی تینوں گروپ میچز دبئی میں کھیلے گا، اور پاک بھارت میچ بھی دبئی میں ہوگا۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے میچز کے لیے دبئی کو نیوٹرل وینیو کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔
معاہدے کی اہمیت:
یہ معاہدہ دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان بہتر تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے اور دونوں ممالک کے کرکٹ تعلقات میں مزید تعاون کا امکان ظاہر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، یہ فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر مزید ایونٹس کی میزبانی کرے اور مالی فائدہ حاصل کرے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس معاہدے کے ذریعے بھارت کے ساتھ کرکٹ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اور دونوں ملکوں کے کرکٹ شائقین کے لیے بھی خوشخبری ہے کہ انہیں عالمی ایونٹس میں پاک بھارت میچز کا موقع ملے گا، جو دونوں ممالک کے کرکٹ شائقین کے لیے بے حد پرجوش ہوتے ہیں۔
پاکستان کا موقف:
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہمیشہ یہ موقف اپنایا ہے کہ بھارت کو پاکستان میں ہونے والے ایونٹس سے انکار کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس معاہدے کے تحت اگر بھارت ان ایونٹس میں شریک نہیں ہوتا تو پاکستان کو مکمل ایونٹ کی میزبانی کا موقع ملے گا۔