پنجاب میں ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے وزیراعلیٰ مریم نواز کا 100 نکاتی جامع پلان جاری

پنجاب میں ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے وزیراعلیٰ مریم نواز کا 100 نکاتی جامع پلان جاری

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبے بھر میں ٹریفک پولیس کو نظامِ ٹریفک کو جدید اور مؤثر بنانے کے لیے 100 مختلف ٹاسک تفویض کیے گئے ہیں۔

یہ اقدامات خاص طور پر روڈ سیفٹی، انفراسٹرکچر کی بہتری، عوامی آگاہی، اور ٹریفک اہلکاروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ہیں۔

اہم ٹاسک اور ہدایات:
جرمانوں میں اضافہ: 5 دنوں میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں میں اضافے کی سمری تیار کر کے متعلقہ حکام کو بھجوانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
روڈ انجینئرنگ: سڑکوں کی حالت بہتر بنانے اور حادثات کے امکانات کم کرنے کے لیے اصلاحات کی جا رہی ہیں۔
آگاہی سائن بورڈز کی تنصیب: عوام میں ٹریفک قوانین کے حوالے سے شعور بیدار کرنے کے لیے آگاہی سائن بورڈز نصب کیے جائیں گے۔
باڈی کیمرے کی فراہمی:

بڑے شہروں میں ابتدائی طور پر ہر شہر کو 10 سے 15 باڈی کیمرے فراہم کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔چھوٹے شہروں میں ہر شہر کو 3 باڈی کیمرے فراہم کیے جائیں گے تاکہ ٹریفک پولیس کی کارکردگی کو ریکارڈ کیا جا سکے اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ای چالاننگ کی وصولی: جدید نظام کے تحت ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر جرمانے ای چالاننگ کے ذریعے وصول کیے جائیں گے۔
غیر قانونی رکشوں کے خلاف کریک ڈاؤن: غیر قانونی رکشوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ ٹریفک کا نظام بہتر بنایا جا سکے۔
ٹریفک یونیفارم اور رولز کی تبدیلی: ٹریفک پولیس کے لیے نئے یونیفارم اور رولز متعارف کرائے جائیں گے تاکہ ان کی کارکردگی اور پیشہ ورانہ انداز میں بہتری آئے۔
وارڈنز کے پی آئیز (Performance Indicators): ٹریفک وارڈنز کی کارکردگی کو پرکھنے اور بہتر بنانے کے لیے پی آئیز مقرر کیے گئے ہیں۔
سیف سٹیز اتھارٹی کو ہدایات: 45 روز کے اندر عوامی جگہوں پر آگاہی سکرینز نصب کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ ٹریفک قوانین کی معلومات عام کی جا سکیں۔
وقت کی حد:
97 ٹاسک مکمل کرنے کے لیے مختلف مقامات کو 1 سے 15 روز کا وقت دیا گیا ہے۔تین اہم ہدایات پر عمل درآمد کے لیے 30 سے 45 روز کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔
مقصد:
یہ تمام اقدامات پنجاب میں ٹریفک کے نظام کو جدید، منظم اور محفوظ بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ حادثات میں کمی آئے اور شہریوں کو بہتر سہولیات میسر ہوں۔