وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے حالیہ ایک بیان میں کہا کہ کالاباغ ڈیم کے بارے میں بھی ماضی میں یہی دعوے کیے جاتے تھے کہ یہ بن رہا ہے، اور اب یہی صورتحال چولستان کینال پر نظر آ رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پانی کے مسائل ملک کے لئے سب سے اہم مسئلہ بن چکے ہیں اور انڈس ریور سسٹم میں پانی کی کمی کا ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ نگران حکومت نے دیامیر باشا ڈیم کی اسٹڈی کی ہے، لیکن وہ عجیب نوعیت کی اسٹڈی ہے، جس پر اعتراض کیا گیا ہے۔ مراد علی شاہ نے پنجاب حکومت کے چولستان کینال منصوبے پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ کینال سندھ کے مفاد میں نہیں ہے اور انہوں نے اس کی مخالفت کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے کسانوں سے اس معاملے پر مشورہ نہیں کیا گیا، اور یہ فیصلہ سندھ کے مفاد کے خلاف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ اسمبلی نے اس کینال کے خلاف قرارداد منظور کی ہے، اور یہ معاملہ سی سی آئی میں بھی زیر غور آئے گا۔ مراد علی شاہ نے اس پروپیگنڈے کی مذمت کی جس میں لوگوں کو بتایا گیا کہ سندھ حکومت اس منصوبے میں ملوث ہے۔
وزیراعلی سندھ نے یہ بھی کہا کہ پنجاب حکومت کا گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت زمین دینے کا عمل بھی مشتبہ ہے، اور انہوں نے اس منصوبے کو واضح طور پر سندھ کے مفاد میں نہیں سمجھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت نے 218 ارب روپے کا پی سی ون تیار کیا ہے جسے سندھ حکومت نے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے ذریعے بڑی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، اور اس کے پیچھے کئی سوالات ہیں جن کے جوابات حکومت پنجاب سے مانگے جائیں گے۔مراد علی شاہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سندھ حکومت اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھاتی رہے گی اور وفاقی حکومت کو سندھ کی پوزیشن کے بارے میں آگاہ کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی حکومت کا یہ منصوبہ سندھ کے مفاد میں نہیں اور اس کو کسی بھی صورت میں نافذ ہونے نہیں دیا جائے گا۔