علی امین گنڈاپور کی سات پشتیں بھی کالاباغ ڈیم کو زندہ نہیں کرسکتیں، ایم ولی

علی امین گنڈاپور کی سات پشتیں بھی کالاباغ ڈیم کو زندہ نہیں کرسکتیں، ایم ولی

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر ایم ولی نے کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور کی سات پشتوں کی بھی بس نہیں کہ کالاباغ ڈیم کو زندہ کرے، کیونکہ کالاباغ ڈیم کی مخالفت جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ واپڈا کے اعداد و شمار کے مطابق کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کے بجائے پانی کے مستقل حل کی طرف بڑھنا ہوگا۔ اگر حکومت کے پاس منصوبہ نہیں تو اے این پی شفاف اور قابل عمل پلان دینے کو تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے جنوبی اضلاع کو سرسبز کریں گے اور کسی کی زمینیں نہیں ڈبوئیں گے، اور اگر وسائل پر اختیار مانگنا غداری ہے تو وہ سو بار قبول ہے۔ایم ولی نے کہا کہ کالاباغ ڈیم مشرف جیسے آمر کے دور میں بھی نہیں بن سکا اور یہ صرف پنجاب کی اشرافیہ کے لیے ایریگیشن اسکیم ہے، جو نہ سستی بجلی دے سکتا ہے اور نہ سیلاب روک سکتا ہے۔ انہوں نے بھاشا ڈیم کو اس کا بہتر متبادل قرار دیا اور کہا کہ کالاباغ ڈیم صرف کرپشن چھپانے اور سیاسی مقاصد کے لیے دوبارہ زندہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 1998 میں کالاباغ ڈیم پر لاگت 7 بلین تھی، جبکہ بھاشا پر صرف 1.5 بلین خرچ ہوگا، اور کالاباغ 3 ہزار میگاواٹ جبکہ بھاشا 5 ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کر سکتا ہے۔ ایم ولی نے کالاباغ ڈیم کے لیے سیاسی اور اقتصادی حقائق کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ عوام کے مفاد میں نہیں بلکہ مخصوص طبقات کے فائدے کے لیے ہے۔