سائنسدانوں نے خلا سے پرندوں کی چہچہاہٹ جیسی آواز پیدا کرنے والی کائناتی لہریں دریافت کر لیں

سائنسدانوں نے خلا سے پرندوں کی چہچہاہٹ جیسی آواز پیدا کرنے والی کائناتی لہریں دریافت کر لیں

سائنسدانوں نے خلا میں زمین سے 62 ہزار میل (ایک لاکھ کلومیٹر) کی دوری پر ’کورس ویوز‘ (Chorus Waves) دریافت کی ہیں، جو پلازما کے پھٹنے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔

 ان لہروں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ انسان کی سماعت کے مطابق فریکوئنسی پر سفر کرتی ہیں اور جب انہیں آڈیو سگنلز میں تبدیل کیا گیا تو ان کی آواز بالکل پرندوں کی چہچہاہٹ جیسی معلوم ہوئی۔

دریافت کی تفصیلات
یہ لہریں خلا میں موجود پلازما کے متحرک ہونے سے پیدا ہوتی ہیں۔ سائنسدانوں نے اس سے پہلے بھی خلا میں ایسی آوازوں کا مشاہدہ کیا ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ زمین سے اتنی دور، یعنی 62 ہزار میل کی دوری پر ایسی آوازیں ریکارڈ کی گئیں۔یونیورسٹی آف آئیووا کی ماہر خلائی فزکس، ڈاکٹر ایلیسن جینز کے مطابق، یہ دریافت خلا کے ماحول اور اس کے اندر موجود عوامل کے بارے میں مزید تحقیق کا باعث بنے گی۔ ان کے بقول:

"یہ دریافت کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے، خاص طور پر یہ سمجھنے کے لیے کہ زمین سے اتنی دور خلا میں کون سے عوامل ایسی آوازوں کا سبب بنتے ہیں۔"
لہروں کا تعلق زمین کے مقناطیسی میدان سے؟
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ان لہروں کا زمین کے مقناطیسی میدان اور خلا میں موجود دیگر برقی اور مقناطیسی عوامل کے ساتھ تعلق ہوسکتا ہے۔ تاہم، ان کے مکمل طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

اس سے پہلے کی دریافتیں
سائنسدان خلا میں کئی دیگر پراسرار آوازیں دریافت کر چکے ہیں، لیکن یہ آوازیں منفرد اس لیے ہیں کہ انہیں زمین کے مقناطیسی میدان سے دور، خلا میں انتہائی بلند مقام پر سنا گیا ہے۔یہ دریافت نہ صرف خلائی سائنس میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے حیرت انگیز ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ خلا میں موجود برقی اور مقناطیسی مظاہر ہماری موجودہ سمجھ سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور متنوع ہیں۔