راولپنڈی: عید الفطر کے موقع پر شہر کے ٹرانسپورٹ مافیا کی من مانے کرائے وصول کرنے کی وجہ سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
عید کے موقع پر راولپنڈی سے شہری اپنے آبائی علاقوں کو واپس جانے کے لیے بسوں کا رخ کر رہے ہیں، لیکن بس اڈوں پر ٹرانسپورٹرز کی جانب سے اضافی کرایے وصول کیے جا رہے ہیں، جس سے مسافر کافی پریشان ہیں۔شہریوں نے شکایت کی کہ ٹرانسپورٹرز نے ایک ایک سیٹ کی 20 سے زائد ٹکٹس جاری کر دی ہیں، جس سے مسافر گاڑیوں میں بیٹھنے سے محروم ہو رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے سے ٹکٹ خرید چکے ہیں، مگر بسوں میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں سفر کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ اضافی کرایے وصول کرنے کے باوجود مسافروں سے بے رحمی سے سلوک کیا جا رہا ہے۔خواتین اور بچوں کو بھی اس اضافی کرائے اور اوورلوڈنگ کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ زیادہ بکنگ اور گاڑیوں کی کمی کی وجہ سے بسوں میں سامان کے اضافی چارجز بھی وصول کیے جا رہے ہیں۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ بس اڈوں پر انتظامیہ یا پولیس کا کوئی اہلکار موجود نہیں ہے، جو ٹرانسپورٹرز کے خلاف کوئی کارروائی کرے۔
دوسری جانب ٹرانسپورٹرز نے اضافی کرایہ وصول کرنے کی شکایات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ عید کے موقع پر بہت زیادہ مسافر ہیں، اس لیے اضافی کرایہ وصول کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں لوگ اپنے علاقوں میں جا رہے ہیں، اور واپسی پر گاڑیاں خالی آتی ہیں، جس سے اخراجات پورے کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرایے میں صرف 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے تاکہ اضافی اخراجات کو پورا کیا جا سکے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عید کے دوران زائد کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے ہدایات جاری کیں کہ تمام بس اڈوں پر کرایہ نامے نمایاں طور پر آویزاں کیے جائیں اور زائد کرایہ وصول کرنے پر سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ اس کے علاوہ، وزیراعلیٰ نے اضافی کرایوں کی روک تھام کے لیے سخت نگرانی کی ہدایت بھی دی ہے۔