عمران خان کیس میں انصاف فراہم کرنا سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے، وکلا

عمران خان کیس میں انصاف فراہم کرنا سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے، وکلا

اسلام آباد: بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلا نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ انہیں بھی وہی قانونی حقوق دیے جائیں جو دیگر شہریوں کو حاصل ہیں، اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجا اور سلمان صفدر نے کہا کہ سپریم کورٹ کی بنیادی ذمہ داری انصاف فراہم کرنا ہے اور اس کے دروازے انصاف کے متلاشیوں کے لیے بند نہیں ہونے چاہئیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ قانون کی تشریح ہمیشہ سپریم کورٹ کرتی آئی ہے اور عبوری احکامات کے خلاف بھی ماضی میں عدالت عظمیٰ فیصلے دیتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی قانونی ٹیم 27 مرتبہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کر چکی ہے، مگر انہیں مؤثر فورم فراہم نہیں کیا جا رہا، جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔انہوں نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ چیمبر اپیل کو فوری سماعت کے لیے مقرر کیا جائے، تاہم ان کے بقول سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے درخواست واپس کر دی۔وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ صرف آئینی نوعیت کے مقدمات کی اپیلیں آئینی عدالت میں جاتی ہیں، جبکہ موجودہ معاملہ ایک عبوری حکم کے خلاف ہے، جسے سپریم کورٹ ہی سن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو قانون دیگر افراد کے لیے نافذ ہے، وہی عمران خان اور بشریٰ بی بی پر بھی یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔

سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی گزشتہ 16 ماہ سے جیل میں ہیں اور ان کے مقدمے میں قید تنہائی اور طبی مسائل بھی اہم نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ فوجداری معاملات پر سپریم کورٹ کو مکمل دائرہ اختیار حاصل ہے اور ان کی نظر میں موجودہ قانونی تقسیم قانون کے مطابق نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ ماہ بھی سپریم کورٹ نے نیب سے متعلق ضمانت کا مقدمہ سنا تھا، مگر عمران خان کے کیس کی فوری سماعت نہیں ہو رہی۔