عوامی مسائل سے باخبر ہونا پارلیمنٹیرینز کی ذمہ داری ہے، جسٹس سپریم کورٹ

عوامی مسائل سے باخبر ہونا پارلیمنٹیرینز کی ذمہ داری ہے، جسٹس سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کے جج جسٹس حسن اظہر رضوی نے سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران اہم ریمارکس دیے ہیں، جن میں انہوں نے پارلیمنٹ کے کردار اور عوامی مسائل کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔

 انہوں نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ عوام کے ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں، اس لیے انہیں عوامی مسائل کا بخوبی علم ہونا چاہیے۔سماعت میں پانچ رکنی آئینی بنچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے۔ ٹیکس پیئر کے وکیل خالد جاوید نے دلائل دیے، جس پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ پارلیمنٹ میں بل لانے کا طریقہ کار کیا ہے۔ وکیل نے مؤقف اپنایا کہ پالیسی سازی اور ٹیکس وصولی کے عمل میں فرق ہے اور پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ عوام کے مفادات کا خیال رکھے۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ اراکین پارلیمنٹ کو عوامی مسائل کا علم ہونا چاہیے، اور یہ سوال اٹھایا کہ کیا کبھی کسی پارلیمنٹرین نے عوامی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے تجاویز دی ہیں یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا کوئی کمیٹی بحث کرتی ہے یا صرف بل پاس کر دیے جاتے ہیں۔

وکیل نے بتایا کہ قومی اسمبلی میں ٹیکس سے متعلق ماہرین کی بحث نہیں ہوتی، اور وزیر خزانہ سپر ٹیکس کے حق میں ہیں۔ اس پر جسٹس رضوی نے کہا کہ ایف بی آر کے وکلاء سے پوچھا گیا تھا کہ مختلف کمیٹیوں میں کیا نتائج نکلتے ہیں، مگر یہ معلومات ابھی تک واضح نہیں ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے بھی زور دیا کہ ٹیکس نافذ کرنے سے قبل ماہرین کی رائے لینا ضروری ہے۔ جسٹس امین الدین خان نے مزید کہا کہ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اگر 10 فیصد ٹیکس لگایا جا رہا ہے تو اس سے کتنے لوگ متاثر ہوں گے۔

سماعت کا یہ کیس کل ساڑھے نو بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔