عمران خان نے ججز تبادلہ اور سنیارٹی کیس کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی

عمران خان نے ججز تبادلہ اور سنیارٹی کیس کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیرِاعظم عمران خان نے ججز کی سنیارٹی اور تبادلوں کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی ہے۔

اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کے ججز کا تبادلہ عدلیہ کی آزادی پر براہِ راست حملہ ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے بعض ججز نے ریاستی اداروں کی مبینہ مداخلت کے خلاف خط لکھے تھے، مگر ان خطوط پر کارروائی کے بجائے ان ہی ججز کو سزادی گئی اور ان کی سینیارٹی متاثر کی گئی۔عمران خان نے مؤقف اپنایا کہ تین ہائی کورٹ ججز کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کرنا ان آزاد ججز کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش ہے، جو عدالتی خودمختاری اور آئینی اصولوں کے مطابق فیصلے دے رہے تھے۔درخواست گزار نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت ججز کی منتقلی صرف عارضی بنیادوں پر ممکن ہے، مستقل تبادلوں کا کوئی آئینی جواز موجود نہیں۔

مزید کہا گیا کہ صدرِ مملکت کو ججز کے تبادلے یا سینیارٹی کے تعین کا کوئی اختیار حاصل نہیں، اور آئینی اختیارات کے غلط استعمال کو روکا جانا ضروری ہے۔عمران خان نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ عدلیہ کی آزادی، ججز کی سینیارٹی اور ادارے کی خودمختاری کو تحفظ دیا جائے، اور عدالتی نظام میں سیاسی مداخلت کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔یہ اپیل ایک ایسے وقت میں دائر کی گئی ہے جب ججز کے تبادلوں اور عدالتی فیصلوں پر سیاسی و قانونی حلقوں میں شدید بحث جاری ہے۔