سپریم کورٹ نے بانی تحریک انصاف عمران خان کی ضمانت کی درخواستوں پر پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کر دیا

سپریم کورٹ نے بانی تحریک انصاف عمران خان کی ضمانت کی درخواستوں پر پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کر دیا

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی مختلف مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواستیں خارج کرنے کے فیصلے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ ایک ہائی کورٹ ضمانت کے مقدمات میں کیس کے مرکزی حقائق (میرٹس) پر کس طرح رائے دے سکتی ہے؟ عدالت نے وکلاء کو ہدایت کی کہ وہ اس قانونی پہلو پر عدالت کی معاونت کریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کا کردار کیس پر کوئی حتمی رائے دینا نہیں بلکہ قانونی نکات کی تشریح اور کیس کا جائزہ لینا ہے، اور کسی بھی قسم کی فائنڈنگ ایسی نہیں دی جائے گی جس سے مقدمے کے حقائق متاثر ہوں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا ضمانت کے مقدمات میں کوئی حتمی آبزرویشن دی جا سکتی ہیں یا نہیں؟

عدالت نے اعلان کیا کہ اس موقع پر صرف پراسیکیوشن کو نوٹس جاری کیا جا رہا ہے تاکہ وہ آئندہ سماعت تک قانونی نکات پر مکمل تیاری کر کے پیش ہوں۔ وکلا کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ سماعت کے لیے قانونی پہلوؤں پر تفصیلی تیاری کریں تاکہ کیس کو حقائق کی بنیاد پر فیصلہ دیا جا سکے۔بعد ازاں، عدالت نے سماعت 19 اگست 2025 تک ملتوی کر دی ہے۔

 پس منظر:
تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں 8 اپیلیں دائر کی ہیں، جن میں مختلف مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں شامل ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے ان درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا، جس پر عمران خان نے اعلیٰ عدالت سے رجوع کیا ہے۔