لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں صبح سے موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے جبکہ اہم شاہراہوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جو 5 اگست تک مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا سبب بن سکتا ہے۔ بارش کے باعث گرمی کی شدت میں نمایاں کمی آئی ہے اور موسم خوشگوار ہو گیا ہے۔پی ڈی ایم اے نے پنجاب بھر میں بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے پیش نظر الرٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ لاہور میں ایم ڈی واسا کی ہدایت پر آپریشنل ٹیمیں نکاسیٔ آب کے لیے فوری طور پر متحرک کر دی گئی ہیں۔لاہور میں سب سے زیادہ 44 ملی میٹر بارش مغل پورہ میں ریکارڈ کی گئی، جبکہ تاجپورہ، جوہر ٹاؤن، چوک ناخدا، لکشمی چوک اور دیگر علاقوں میں بھی نمایاں بارش ہوئی۔پی ڈی ایم اے کے مطابق لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد اور ملتان میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے، جبکہ مری، گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ برقرار ہے۔
گوجرانوالہ میں ریکارڈ بارش
گوجرانوالہ اور گردونواح میں رات سے جاری طوفانی بارش کے باعث شہر کے نشیبی علاقے، گلیاں اور انڈر پاسز زیرِ آب آ گئے، جس سے متعدد مقامات پر آمدورفت معطل ہو گئی۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق شہر میں اوسطاً 140 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ پیپلز کالونی میں 171 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جو شہر میں سب سے زیادہ ہے۔
سیالکوٹ میں صورتحال
سیالکوٹ میں دو گھنٹے کی شدید بارش نے کئی علاقوں کو زیرِ آب کر دیا۔ دارا ارائیاں اور ملحقہ علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے سے پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا، جبکہ شہریوں نے نکاسیٔ آب کے انتظامات پر تشویش کا اظہار کیا۔لاہور ٹریفک پولیس نے شہریوں کو بارش کے دوران محتاط ڈرائیونگ، مناسب رفتار برقرار رکھنے، محفوظ فاصلہ رکھنے، اچانک بریک لگانے سے گریز کرنے اور موٹر سائیکل سواروں کو ہیلمٹ پہننے کی ہدایت کی ہے۔